سندرتا کا راکشس
شام دبے پاؤں رینگ رہی تھی۔ ٹیلے پر درختوں کے سائے پھیلتے جا رہے تھے لیکن چوٹی کی جھولی سورج کی تھکی ماندی کرنوں سے ابھی تک بھری ہوئی تھی۔ سوامی جی کی کٹیا کا دروازہ صبح سے بند تھا۔ بالکا اور داس دونوں درختوں کی چھاؤں تلے بیٹھے اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ ہر چند ساعت بعد وہ سر ...