قومی زبان

گیس چیمبر

مجھے زندہ رہنے کے لیے تین چیزیں درکار ہیں۔ ہوا، دودھ اور نیند۔ جب وہ مجھے ہسپتال سے لائے تو ابھی میری آنکھیں بند تھیں۔ پپوٹوں سے پرے مناظر پھیلے ہوں گے جو میں پہلی مرتبہ دیکھوں گا۔ مناظر ہونے چاہئیں۔ اگر نہ ہوئے تو میری کھوپڑی میں ان دوچھیدوں کی کیا ضرورت تھی؟ سنا ہے یہ منظر، ...

مزید پڑھیے

سیاہ آنکھ میں تصویر

لارنزد کی لاش کئی روز تک مقدس پہاڑی کی چوٹی پر گڑی صلیب سے جھولتی رہی۔ انہوں نے اسے صلیب پر میخوں سے گاڑنے کی بجائے ایک رسہ لٹکا کر پھانسی دی تھی۔ میخیں مہنگی ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ گاڑی جائیں تو آسانی سے اکھڑتی نہیں۔ ضائع ہو جاتی ہیں۔ رسہ سستا ہوتا ہے۔ پھانسی دینے کے لیے کوئی اور ...

مزید پڑھیے

بابا بگلوس

گرمی سے پگھلے ہوئے شہر کی ابلتی رات میں ایک بدن کو نچوڑ کر یخ کر دینے والی چیخ کا گرم سیسہ کانوں میں اترا۔ بابے بگلوس نے کروٹ بدلی۔ ایک اور چیخ کا گرم پتھر اس کی کھوپڑی پر گرا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی چیخوں کے دہکتے اولے اس کے بدن پر برسے۔ کیا مصیبت ہے۔ عمارت کے اہل ...

مزید پڑھیے

درخت

کلہاڑے کا لشکتا پھل درخت کی چھال کو چیرتا ہوا سفید گودے میں کھب گیا۔ یہ پہلی ضرب تھی۔ لکڑہارے نے ہتھیلیوں پر تھوکا اور دستے کو مضبوطی سے تھام کر اسے درخت سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔۔۔ بازوؤں میں اتنی طاقت نہ تھی۔ اس نے آسمان کی جانب دیکھا جیسے غیبی مدد کا ...

مزید پڑھیے

منگل کی کہانی

(پچھلے سال میں منگل گیا تھا جہاں پانچ دریاؤں کی سرزمین کے ایک قدمی دریا پر بند تعمیر کیا گیاہے۔ عجب سہانا اور دلکش منظر تھا۔ دوپہر کے روشن سورج نے گویا نمرود کے پانی میں آگ لگا دی ہواور تپتی ہوئی زمین سورج کی روشنی میں پگھلا ہوا سونا نظر آرہی ہو۔ اونچے اونچے بند گویا آسمان سے ...

مزید پڑھیے

احسان علی

کیسی رنگیلی طبعیت تھی احسان علی کی، محلے میں کون تھا جو ان کی باتوں سے محظوظ نہ ہوتا تھا، اگر وہ محلے کی ڈیوڑھی میں جا پہنچتے، جہاں بوڑھوں کی محفل لگی ہوتی تو کھانسی کے بجائے قہقہے گونجنے لگتے، چوگان میں بیٹھی عورتوں کے پاس سے گزرتے تو دبی دبی کھی کھی کا شور بلند ہوتا، محلے کے ...

مزید پڑھیے

آپا

جب کبھی بیٹھے بٹھائے، مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو مدھم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ میں، آپا اور امی جان، کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا آیا۔ ان دنوں بدو چھ سات سال کا ہو گا۔ کہنے لگا، ’’امی ...

مزید پڑھیے

روغنی پتلے

شہر کا الیٹ شاپنگ سنٹر۔۔۔ جس کی دیواریں، شلف، الماریاں بلور کی بنی ہوئی ہیں۔ جس کا بنا سجا فیکیڈ جلتے بجھتے رنگ دار سائز سے مزین ہے۔ جس کے کاؤنٹرز مختلف رنگوں کے گلو کلرز پینٹس کی دھاریوں سے سجے ہوئے ہیں اور شلف دیدہ زیب سامان سے لدے ہیں جس کے کاؤنٹروں پر سمارٹ متبسم لڑکیاں اور ...

مزید پڑھیے

بیگانگی

رشید نے اٹھ کر آنکھیں کھولیں۔ دو ایک انگڑائیاں لیں اور کھوئے ہوئے انداز میں سیڑھیوں کے قریب جا بیٹھا۔ اس نے کوٹھے پر ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ تمام چارپائیاں خالی پڑی تھیں۔ سب لوگ نیچے جا چکے تھے۔ جہاں تک نگاہ کام کرتی تھی، سامنے اونچے اونچے مکانوں کا انبار دکھائی دیتا تھا۔ اس کے ...

مزید پڑھیے

چپ

’’چپ!‘‘ جیناں نے چچی کی نظر بچا، ماتھے پر پیاری تیوری چڑھا کر قاسم کو گھورا اور پھر نشے کی شلوار کے اٹھائے ہوئے پائنچے کو مسکرا کر نیچے کھینچ لیا اور از سر نو چچی سے باتوں میں مصروف ہو گئی۔ قاسم چونک کر شرمندہ سا ہو گیا اور پھر معصومانہ انداز سے چارپائی پر پڑے ہوئے رومال پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6006 سے 6203