قومی زبان

شیشہ گھاٹ

(۱) آٹھ برس تک بڑی محبت کے ساتھ مجھے اپنے یہاں رکھنے کےبعد آخر میرا منھ بولا باپ مجبورہواکہ میرے لئے کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈھے۔ زیادتی اس کی نہیں تھی، میری بھی نہیں تھی۔ اسے یقین تھا، اور مجھے بھی کچھ دن اس کے ساتھ آرام سے رہنے کے بعد میرا ہکلانا ختم ہوجائےگا۔ لیکن اس کوامید ...

مزید پڑھیے

اہرام کا میر محاسب

بڑے اہرام کی دیواروں پر فرعون کا نام اور اس کی تعریفیں کندہ ہیں۔ اس سے یہ بدیہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس عمارت کو فرعون نے بنوایا ہے۔ لیکن اس سے ایک بدیہی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ فرعون کا نام اور اس کی تعریفیں کندہ ہونے سے پہلےاہرام کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔ مگر کتنے پہلے؟ چند ماہ؟ ...

مزید پڑھیے

رے خاندان کے آثار

(۱) مجھے عظیم آباد میں پانچواں دن تھا۔ میں وہاں اپنے ایک افسر دوست کے بلاوے پر کچھ دن ان کے ساتھ رہنے کے لئے پہنچا تھا لیکن میرے اس دورے کا اصل مقصد یہ تھا کہ مجھ کو اپنے آبائی مکان سے الگ رہنے کی تھوڑی سی عادت ہو جائے اور افسر دوست کے بلاوے کا بھی اصل مقصد شاید یہی تھا۔ اپنے ...

مزید پڑھیے

اب کے برس

نور جہاں بیگم سے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا پل پل نظریں گھڑی پر لگی ہوئی تھیں اور کان دروازے پر۔ میاں کو گئے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے۔ صبح دس بجے نکلے تھے اور اب تین بج رہے تھے۔ نور جہاں بیگم کے پیٹ میں ہولیں اٹھنے لگیں۔ ’’الٰہی خیر۔ میاں کو تمام حادثات سے محفوظ رکھیو۔ مشکل کشا کی ...

مزید پڑھیے

کمین گاہ

گھر پہنچ کر دن بھرکی مشقت اور ڈپریشن کا بوجھ اتارا ہی تھا کہ سامنے کامنظر دیکھ کر بوکھلا گیا۔ سانحات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں مگر فی الوقت میں اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ میرے گھر کے نیم کشادہ ڈرائینگ روم کا ماحول اور ترتیب، جس کو میری بیوی نے اپنی صحت مندی کے دوران بڑے سلیقے سے ...

مزید پڑھیے

طولِ شبِ فراق

کسی شکست خوردہ جواری کی طرح گردن جھکائے آہستہّ ہستہ سیڑھیاں طے کرتا ہوا وہ اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔اُس وقت وہ معمول سے زیادہ پریشان اور غمگین نظر آرہا تھا۔اُس کے خشک اور منتشر بالوں نے اُس کا حلیہ مزید بگاڑ رکھا تھا۔ایسا جان پڑتا تھا جیسے وہ اپنی زندگی کا تمام اثاثہ لُٹا ...

مزید پڑھیے

صدیوں بھرا لمحہ

شہر کے مرکز میں یہ کیتھڈرل ہے۔ بہت اونچا اور شان دار۔ ایک خوب صورت عمارت ، جو دل موہ لیتی ہے۔ رات کے نو بجے ہیں اور ملگجے اندھیرے میں اس بڑے چوک کے عین بیچ میں مینار کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر میں سوچ رہی ہوں کہ کچھ نہ سوچوں، نہ یہ کہ آج اس شہر میں میرا آخری اتوار ہے، نہ یہ کہ ابھی کچھ ...

مزید پڑھیے

جنگل میں منگل

وہ ایک گھنا جنگل تھا اور جنگل میں منگل تھا۔ منگل میں ہمارے تمہاری طرح کے لوگ بستے تھے اور وہی جنگل کی رعایا تھی۔ اس گھنے جنگل میں درندوں کا راج تھا۔ وہ درندے بھی ہمارے تمہاری طرح کے انسان تھے۔ اگر انسان نہیں تھے توانسان نما ضرور تھے۔ وہ تمام اختیارات کے مالک تھے۔ جنگل کا نظم ...

مزید پڑھیے

سوئے مقتل

جس وقت وہ کامیاب ہو کر لوٹا دونوں نے اس کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور حسب معمول اس کی خاطر مدارات میں کسی قسم کی کسر اٹھا نہ رکھی، اسے وہ مشروب بھی پیش کیا گیاجسے پی کر دنیا بدل ہی جایا کرتی تھی، وہ آسمان کی بلندیوں پر پرواز کرتا، چھو ٹے چھوٹے سرمئی اور نارنجی بادلوں کے ٹکڑے اس کا ...

مزید پڑھیے

کیا وہ مر گئی

مظہر رات دیر تک جگتا رہا، صبح اٹھتے ہی اس نے اپنا فیصلہ بلا جھجک اپنی بیوی کے گوش گزار کر دیا تھا، اس کی آنکھوں میں حیرت اور دکھ کے سائے لہرانے لگے تھے اور آنسوؤں کی لڑیاں ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے رخساروں کو بھگو رہی تھیں۔ ’’بولو! میں کیا کرسکتا ہوں، ڈاکہ ڈالوں چوری کروں، تمہیں اچھی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5993 سے 6203