قومی زبان

لذت غم

رات ۱۲بجے کا وقت تھا، سردیوں کا زمانہ، سڑکیں سنسان اورریسٹورینٹ ویران تھے، ٹھنڈی ہوائیں جسم سے ٹکراتیں تو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے ناکردہ گناہوں کی سزا نے برف کی سل جسم سے باندھ دی ہو، اس نے یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لئے مفلر کو اپنے کاندھوں کے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا اور اپنے دونوں ...

مزید پڑھیے

وہ دونوں

آ ج پھر میں نے ان دونوں کو بالکنی میں کھڑے دیکھا تھا۔ بادل گھر آئے تھے اور ہلکی پھوار میں وہ دونوں ریلنگ پر جھکے نیچے دیکھ رہے تھے جہاں سڑک پر اکا دکا آدمی چھا تا سروں پر کھولے آہستہ آہستہ آ جا رہے تھے کبھی آپس میں کسی بات پر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کربڑی لگاوٹ سے مسکرا دیتے یا کسی ...

مزید پڑھیے

پتھر اور کونپل

اس نے ہتھیلی کی پشت سے پلکوں پر جلتے ہوئے آنسووں کے قطرے پونچھ دیئے اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔نیلے آسمان پر دور تک پھیلے ہوئے بادلوں کے غبار پر نظر جم گئی۔ پھر دیکھا تو دور تک میدان ہی میدان پڑا تھا۔مٹیالا ، مٹیالا اور کہیں کہیں ہلکا سبزہ زمین پر بچھی ہوئی کاٹی کی طرح لگتا ...

مزید پڑھیے

دور دیس سے

جانے کتنی مدت سے تمہیں خط لکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ اتنے لمبے چوڑے خط کے جواب کیلئے کتنے ورق لکھنے پڑھیں گے تب تک ، تومنی بھی نیند سے چونک پڑے گی۔ اللہ جانے کیسے ڈراؤنے خواب ہوتے ہیں کہ منی گھبرا کے نیند میں مجھے ٹٹولنے لگتی ہے۔ میرے اوندھے سیدھے خواب ہی کیا کم ہیں کہ جن کا ...

مزید پڑھیے

شبنم اور انگارے

اس نے کروٹ بدل کے چادر منہ پر کھینچ لی۔ سورج کی کرنیں کھڑکی کے اندر آ کے پھیل گئی تھیں اور وہ ان کی گری محسوس کر رہی تھی لیکن بستر چھوڑ کے اٹھنے کو دل نہ چاہتا تھا۔ جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ جوڑ جوڑ میں درد ہو رہا تھا اور ایک انجانی کسک دل کو اداس بنا رہی تھی۔ کل تک زندگی ...

مزید پڑھیے

سیب کا درخت

درختوں ، بیلوں اور پھولوں میں گھر ی ہوئی ڈیوڑھی کسی بوڑھی کمزور عورت کی طرح جھک آئی تھی۔ چھت کی بڑی بڑی مضبوط نائیں دیمک چاٹ رہی تھی۔ بارش نے زرد رنگ ڈالا تھا اور باہر ڈیوڑھی کی دیواروں پر کائی اگ آئی تھی۔ نواب میاں کی یہ ڈیوڑھی اپنے اندر بڑی کشش رکھتی تھی اس ڈیوڑھی کو دیکھنے ...

مزید پڑھیے

ایر کنڈیشنڈ

سرمئی بادلوں نے ایک حسین شام کو تخلیق کیا تھا۔ حامد روڈ پر گہما گہمی ، ریل پیل ، حسن ، دلفریبی ، چمک دمک قہقہے اور سرگو شیاں بہہ رہی تھیں۔ مگر وہ ایر کنڈیشنڈ ’’ رانی ایمپوریم ‘‘ میں کاؤنٹر پر کھڑی بند دروازوں کے شیشوں سے باہر دیکھ رہی تھی۔سامنے ’’ میکس فیکٹر ،’ کے میک آپ کا ...

مزید پڑھیے

اسی رہگذر پر

پاوشان نے شونا کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا اور مسکرا کے بولا ’’اس آسمان کو دیکھو شونا کس قدر نیلا ہے اور بادلوں پر شفق کا ہلکا سرخ رنگ چڑھ گیا ہے اور کہیں کہیں سفید چمکیلی جھلک وہ دیکھو۔ ادھر مغربی پہاڑی پر وہ۔ وہ۔‘‘ شونا نے اپنی بھدری نیم وا آنکھوں سے اوپر دیکھا۔ کوریا کا کھلا ہوا ...

مزید پڑھیے

سائے

اس انوکھے اور رنگین شیشوں کے اونچے اونچے دروازوں والے محل کو نیلام کر کے جیسے زلیخا بیگم کی گود خالی ہو گئی اور ایسی ماں بن گئیں جس کا اکلوتا جوان بیٹا مرگیا ہو! ارمانوں کے پھول مرجھا گئے تھے اور نزدیک کی آوازیں بھی کسی دور جنگل سے آنے والی درختوں کی سائیں سائیں کی طرح کانوں میں ...

مزید پڑھیے

آخری حوَیلی

ہائے یہ حویلی نہ ہوئی ، پورے نو مہینے کا پیٹ ہو گیا جس کا بوجھ عورت کو سنبھالنا دوبھر ہو جاتا ہے… یہ کمبخت حویلی بھی صمصام الدولہ کا بوجھ بنی پڑی تھی۔ ایک دو، نہ پورے پچاس کمرے تھے۔مرّمت کروانا تو ایک طرف ،قلعی پھر دانا بھی بس کی بات نہ تھی جگہ جگہ سے دیواروں پرچو نے کا پلستر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5994 سے 6203