قومی زبان

خون سفید

چیت کامہینہ تھا، لیکن وہ کھلیان جہاں اناج کے سنہرے انبار لگتے تھے، جان بلب مویشیوں کے آرام گاہ بنے ہوئے تھے۔ جن گھروں سے پھاگ اور بسنت کی الاپیں سنائی دیتی تھیں وہاں آج تقدیرکا رونا تھا۔ ساراچوماسہ گزرگیا پانی کی ایک بوند نہ گری۔ جیٹھ میں ایک بارموسلادھارمینہ برساتھا۔ کسان ...

مزید پڑھیے

راہ نجات

سپاہی کو اپنی لال پگڑی پر، عورت کو اپنے گہنوں پر، اور طبیب کو اپنے پاس بیٹھے ہوئے مریضوں پر جوناز ہوتا ہے وہی کسان کو اپنے لہلہاتے ہوئے کھیت دیکھ کر ہوتا ہے۔ جھینگر اپنے ایکھ کے کھیتوں کو دیکھتا تو اس پر نشہ سا چھا جاتا ہے۔ تین بیگھے زمین تھی۔ اس کے چھ سو تو آپ ہی مل جائیں گے، ...

مزید پڑھیے

طلوع محبت

بھوندو پسینہ میں شرابور لکڑیوں کا ایک گٹھا سر پر لیے آیا اور اسے پٹک کر بنٹی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ گویا زبانِ حال سے پوچھ رہا تھا، ’’کیا ابھی تک تیرا مزاج درست نہیں ہوا؟‘‘ شام ہوگئی تھی پھر بھی لو چلتی تھی اور آسمان پر گردو غبار چھایا ہوا تھا۔ ساری قدرت دق کے مریض کی طرح نیم ...

مزید پڑھیے

شطرنج کی بازی

(۱) نواب واجد علی شاہ کا زمانہ تھا۔ لکھنؤ عیش و عشرت کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ چھوٹے بڑے امیر و غریب سب رنگ رلیاں منارہے تھے۔کہیں نشاط کی محفلیں آراستہ تھیں۔ کوئی افیون کی پینک کے مزے لیتا تھا۔ زندگی کے ہر ایک شعبہ میں رندی ومستی کا زور تھا۔ امور سیاست میں، شعر وسخن میں، طرز ...

مزید پڑھیے

نئی بیوی

ہمارا جسم پرانا ہے لیکن اس میں ہمیشہ نیا خون دوڑتا رہتا ہے۔ اس نئے خون پر زندگی قائم ہے۔ دنیا کے قدیم نظام میں یہ نیا پن اس کے ایک ایک ذرے میں، ایک ایک ٹہنی میں، ایک ایک قطرے میں، تار میں چھپے ہوئے نغمے کی طرح گونجتا رہتا ہے ۔اور یہ سو سال کی بڑھیا آج بھی نئی دلہن بنی ہوئی ہے۔ جب ...

مزید پڑھیے

جگنو کی چمک

شیرِ پنجاب کی آنکھیں بند ہوچکی تھیں اور اراکینِ سلطنت باہمی نفاق و عناد کے ہاتھوں مرمٹے تھے۔رنجیت سنگھ کی بنائی ہوئی شاندار مگرکھوکھلی عمارت پامال ہوگئی تھی۔کنور دلیپ سنگھ انگلستان میں تھے اور رانی چندر کنور چنار کے قلعہ میں۔ چندر کنورنے گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالنے کی بہت ...

مزید پڑھیے

نجات

(۱) دکھی چمار دروازے پر جھاڑو لگا رہا تھا۔ اور اس کی بیوی جھریا گھر کو لیپ رہی تھی۔ دونوں اپنے اپنے کام سے فراغت پا چکے تو چمارن نے کہا، ’’تو جا کر پنڈت بابا سے کہہ آؤ۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے جائیں۔‘‘ دکھی، ’’ہاں جاتا ہوں، لیکن یہ تو سوچ کہ بیٹھیں گے کس چیز پر؟‘‘ جھریا، ...

مزید پڑھیے

بڑے گھر کی بیٹی

(۱) بینی مادھو سنگھ موضع گوری پور کے زمیندار نمبر دار تھے۔ ان کے بزرگ کسی زمانے میں بڑے صاحب ثروت تھے۔ پختہ تالاب اور مندر انھیں کی یاد گار تھی۔ کہتے ہیں اس دروازے پر پہلے ہاتھی جھومتا تھا۔ اس ہاتھی کا موجودہ نعم البدل ایک بوڑھی بھینس تھی جس کے بدن پر گوشت تو نہ تھا مگر شاید دودھ ...

مزید پڑھیے

محبت کی دیوی

(۱) زمین نہ جانے کتنی بارآفتاب کے گرد تصدق ہوچکی ہے، معلوم نہیں چاند کتنی مرتبہ کرہ ارض کی اوٹ سے اپنی پیشانی کا ہلال دکھا دکھا کر غائب ہوگیا اور زمین کے بخارات نہ معلوم کتنی دفعہ فضائے آسمانی میں ابر بن بن کر قطرہ زن ہوئے، لیکن رادھاؔ نے جو عزلت نشینی اختیار کرلی، وہ اسی طرح ...

مزید پڑھیے

زہرہ کا ایک پجاری

یونان کے اس عہد حسن و عشق میں، جب وہاں کا ذرہ ذرہ، خردۂ مینا کا حکم رکھتا تھا، یوں تو ہمیشہ، ہر روز، محبت کا دیوتا ایک نہ ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوا کرتا تھا، اور کوئی لمحہ ایسا نہ ہوتا تھا جو پرستش حسن کے نقوش سے خالی گزر جاتا ہو، لیکن دنیا اور دنیا کی تاریخ یقیناً اس ساعت کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5983 سے 6203