قومی زبان

نروان

بدھسوا تنہا بیٹھی سوچ رہی تھی کہ سدھارت بدھا کیسے بن گیا۔اس کو نروان کیسے مل گیا۔ برہمنیت کا غرور خاک میں ملا نا کو ئی آسان کام نہیں تھا ۔ نا ہی بدھی ریاضت میں کو ئی آسانی تھی ۔ ضبط کے بھی روزے کی انتہا ، تو پھر نروان کیسے اور کیونکر مل سکتا ہے۔ اس کی سوچیں ابھی ذاتی جنگ میں مبتلا ...

مزید پڑھیے

حسینئہ من

دھوپ کی تپش سے، سورج کی گرمی سے، اوزون کے شگاف سے، انسانوں کے رویو ّں سے، مخلوق کے سلوک سے برف پگھل پگھل کر نجانے کب سے اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ کہاں کس سے جھولتی ہے، کہاں کس کو چومتی ہے، کہاں اس کا دم بے دم ہو جاتا ہے، اور کہاں کس کی بانہوں میں سوجاتی ہے۔ اور پھر نجانے وہ کب کس سفر ...

مزید پڑھیے

راج مہر

میں کیا کرتی میرے پَر کاٹ دئیے گئے تھے۔ میری سوچ کے در بند کر کے ان پر تالے لگا دئیے گئے تھے۔ جن پہ زنگ نے میرے دشمنوں سے وفا کی، میری آنکھوں پہ شریعت نام کے پردے ڈال دئیے گئے تھے۔ ہاتھوں سے کتاب چھین کر، ایک مقدس کتاب مجھے تھما دی گئی، جسے میں پڑھ سکتی تھی۔۔۔ صرف۔۔۔کیونکہ اس کی ...

مزید پڑھیے

کفارہ

ریل سے اتر کر اگر شاہ گڈھ اسٹیشن سے ٹھیک شمال کی طرف روانہ ہو تو پانچ گاؤں چھوڑ کر اخیر گاؤں سکھ داس پور آتا ہے۔ اس کے بعد دو میل سے بھی زیادہ چوڑے میدان کو پار کرکے نگاہیں ایک سبزی مائل سیاہ دیوار پر رکتی ہیں۔ جو کہ دائیں ہاتھ پر ساردا نہر کی اونچی پٹری سے شروع ہو کر دائیں طرف ...

مزید پڑھیے

بے زبان

پانچ سو روپے کے انعام کا اعلان سن کر باری باری سب ہی نے کوشش کی۔ ہندوستانی چابک سوار، کابلی پٹھان، توپ خانے کے گورے اور سپاہی ایک کے بعد ایک کتنے ہی گھوڑی پر سوار ہونے کے واسطے سرکس کے دائرے میں داخل ہوئے اور طرح طرح سے کوششیں کیں، لیکن گھوڑی پر سوار ہونا تو درکنار اس کی راس تک ...

مزید پڑھیے

کلوا

منہ پر پسینہ، گالوں پر سرخی، کوٹ کے بٹن کھلے ہوئے۔ قمیض کے دامن اور ہاتھ پر روشنائی کے دھبّے، ازار بند پیروں تک لٹکا ہوا، ایک بغل میں کالا بستہ اور دوسری بغل میں کالا کتّے کا پِلاّ، منّن گھر میں داخل ہوا۔ اماں نے چیخ ماری، ’’اے ہے میں مر گئی۔‘‘ سنگرمشین نے گنگنانا بند کر دیا۔ ...

مزید پڑھیے

گوری ہو گوری

چوماسہ کی اندھیاری رات تھی۔ بھیگی بھیگی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی۔ جھینگروں نے جھنکار مچارکھی تھی۔ مینڈک بول رہے تھے۔ ٹر، ٹر، ٹر، پیپل کے سوکھے ڈگالے پر الو کہتاتھا۔ ہک ہو۔ ہک ہو۔ بسنتی نے کروٹ لی۔ پھر منہ پر تھپڑ مارا۔ بولی، ’’ہائے رے۔ ارے رام کیسے ڈانس لاگیں۔‘‘ پیپل پر الو ...

مزید پڑھیے

چریاملک

ملک محمد حاکم بیساکھی پر قبضے کی دکانوں کا پھیرا لگا کر شبیر کے ہوٹل پہنچا۔ اس کی مختصر گٹھڑی میں پتی کی پڑیاںنظر آرہے تھے۔ اس نے بینچ پر گٹھڑی پھینکی ، دائیں پیر کے فوجی بوٹ کا تسمہ کھولا اور نڈھال ہو کر گر گیا ۔ٹھنڈے پانی کا گلاس چڑھا کر طبیعت بحال ہوئی تو اسے یاد آی ، سیگریٹ ...

مزید پڑھیے

بوئے خوں

وہ اندھیرے میں دکھائی نہ دینے والی سرخ اینٹوں کے کھردرے فرش پر گھٹنے ٹیک کر اس طرح بیٹھا تھا، جیسے نماز پڑھ رہا ہو۔ گھٹنوں پر رکھے ہوئے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور کاندھے میں بھی تیز دُکھن تھی جب کہ اس کا دایاں ہاتھ فرش پر بے حس لٹکا پڑا تھا۔ ایک لمحے کے بعد اس کی اوپر ...

مزید پڑھیے

خواہ مخواہ کی زندگی

اس کے بلاوے پر میں اس دوزخ میں کیوں آگیا۔ گیلی لکڑیوں کے چبھنے والے دھویں سے بھرا یہ چھوٹا سا ہوٹل دوزخ ہی تو تھا۔ کتنی گھٹن تھی اور گرمی بھی۔ نہ کھڑکی نہ روشن دان، بس ایک دروازہ۔ اندر گھسنے کے لیئے آنکھیں جل رہی تھیں۔ لگتا تھا، پلکیں جھڑ جائیں گی۔ سانسوں کا زہر بھی گلے میں اٹک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5974 سے 6203