قومی زبان

اندھیری گلیاں

گھر سے نکل کر جب وہ سرین محلہ کے ماسٹر تارا سنگھ چوک پر پہنچے تو بجلی کی روشنیاں بجھ گئیں، اور ایک ہیبت ناک اور موت کے تصور سے زیادہ گہرا اندھیرا چھاگیا اور جانے کس گلی کے موڑ پر محلے کا چوکیدار اپنی کرخت، سخت اور دہلادینے والی آواز سے چنگھاڑا، ’’خبردار۔۔۔! خبردار ہو!‘‘ کملیش ...

مزید پڑھیے

لوہے کا کمر بند

بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت خوبصورت تھی۔ اتنی کہ اس کی محض ایک جھلک دیکھنے کے لئے عاشق مزاج لوگ اس کی گلی کے چکر لگایا کرتے تھے۔ یہ بات سوداگر کو بھی معلوم تھی اس لئے اس نے اپنی بیوی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اس کی اجازت کے بغیر وہ کسی سے ...

مزید پڑھیے

آنگن

اس دن صبح صبح ہی نیٹا کے ساتھ کچھ جھگڑا ہوگیا تھا۔ جھگڑا ہوجانے کے بعد ایک دوسرے سے کوئی بات کیے بناہی ہم نے چائے پی اور اسی طرح چپ رہ کر کھانا بھی کھالیا تھا۔ ایسا کرتے وقت ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے اس آنگن کی طرف خالی خالی آنکھوں سے دیکھتے رہے جس کے سامنے ہی ہم اپنے ...

مزید پڑھیے

جو عورت ننگی ہے

میں سمجھا ایسی عورت مجھے ہر کہیں ملےگی۔ سارے یوپی میں۔۔۔ روز پان چبانے سےدانت کتنے گندے ہوجاتے ہیں۔ دیکھتے ہی گھن آنے لگتی اور میں نفرت سے منھ پھیر لیتا۔ بھدے خدوخال، کھچڑی بال اور ماتھا اورمانگ اتنی سرخ جیسےسرخی یہیں سے جنم لیتی ہے۔ بیشتر عورتیں بدن پر صرف ایک دھوتی لپیٹے ...

مزید پڑھیے

بند کھڑکی کا کرب

میری بے چینی بے سبب نہیں تھی ۔ذہن و دل میں ایسا طلاطم بپا تھا جو مجھے ایک پل بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔میں اپنی کھڑکی سے سامنے والے گھر کی تیسری کھڑکی کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ یہ پچھلے پانچ دن سے لگاتار بندپڑی تھی۔ حالات کتنے بھی خراب ہوجاتے ، تناؤ کتنا بھی بڑھ جاتا ، پر ...

مزید پڑھیے

ایک دوجے کے لیے

وہ روشنی کی شہزادی تھی۔ میں روئی جیسے گالوں سے بنے بادلوں کا باشندہ۔ میں اسے ہمیشہ روشنیوں کے سہارے ہی دیکھتا تھا ۔ کبھی چاندنی کی نورانی کرنوں میں اس کا عکس ابھرآتا تھا تو کبھی سورج جیسی روشنی میں اس کے مدھم مدھم نقوش میری آنکھوں کو خیرہ کردیتے تھے۔ جب کبھی و ہ میری طرف اپنی ...

مزید پڑھیے

بلبل اور باز

ہزاروں میل کی مسافت طئے کرنے کے بعدساجد نے جنتِ کشمیر میں قدم رکھا۔کمپنی کے خوبصورت کوارٹر کے صحن میں قدم رکھتے ہی اس کا دماغ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سے معطر ہوگیا۔ کمرے میں آکر اُس نے کھڑکیاں کھول دیں تو خوشبودارہوائیں کمرے میں رقص کرنے لگیں اور دیوار پر لٹکے کلنڈر کے ا ...

مزید پڑھیے

گورکن

زندہ ون گاؤں کے بیچوں بیچ حیات ندی بہہ رہی تھی۔ ندی کا پانی زندہ ون گاؤں اور آس پاس کے علاقوں کے لئے آبِ حیات سے کچھ کم نہ تھا۔ چھوٹے چھوٹے پہاڑی جھرنوں کا شفاف اور جھلملاتا پانی بل کھاتا گاؤں میں پہنچ جاتا تھا اور یہاں اس چشمے کے پانی میں مل جاتا تھا جو گاؤں کے متبرک اور تیرتھ ...

مزید پڑھیے

کہاں ہے منزل راہ تمنا۔۔۔

’’سعودی ایرلائنس کی فلائٹ ایس وی ۳۴۵ جدہ انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے لئے تیار ہے۔‘‘ تیسری اور آخری کال کا اناؤنسمنٹ ہو رہا ہے۔میری کلائیاں اسٹیل کی قفل لگی ہتھکڑیوں میں جکڑی ہیں۔ نسوانی کمر والا شرطیٰ یعنی سعودی پولیس اہلکار ہتھکڑیوں سے بندھی موٹی زنجیر کو تھامے ...

مزید پڑھیے

لمحہ ایک گمان کا۔۔۔

اسی چوکور کشادہ کمرے میں نرملا اور میں نے نئی زندگی کی شروعات کی تھی۔۔۔ سامنے دیوار پر فیکسڈنرملا کی قد آدم تصویر پر دھول جمی ہے۔سانولی ،سخت ۔۔۔ مضبوط اور پکے اردوں والی نرملا!!۔ سکون کی طویل سانس بھرتے ہوئے میں نے اپنے بیڈروم کی دونوں کھڑکیاں کھول دیں۔۔۔ ہوا کا گرم جھونکا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5968 سے 6203