قومی زبان

جو کوئے یار سے نکلے۔۔۔

چھن سے گدلے پانی میں ایک کنکر گرا ۔۔۔۔ننھاساگول گول دائرہ بڑا ہوتا رہا اور اس دائیرے کے بیچوں بیچ میرا تن تنہا چہرہ بگڑا اور پھر بن گیا۔ میں روز صبح ۷ بجے جمنا کے کنارے جاگنگ کرتی ہوں ۔اپنا عکس پانی کی سطح پر بنتے بگڑتے دیکھتی ہوں ۔۔۔۔دن بھر کی مصروفیات کی فہرست بناتی ہوں۔۔۔۔آج ...

مزید پڑھیے

لاجونتی

’’ہتھ لائیاں کمھلاں نی لاجونتی دے بوٹے‘‘ (یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری، ہاتھ بھی لگاؤ کمھلا جاتے ہیں) ایک پنجابی گیت بٹوارہ ہوا اور بے شمار زخمی لوگوں نے اٹھ کر اپنے بدن پر سے خون پونچھ ڈالا اور پھر سب مل کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے جن کے بدن صحیح و سالم تھے، لیکن دل ...

مزید پڑھیے

چھوکری کی لوٹ

بچپن کی بہت سی باتوں کے علاوہ پرسادی رام کو چھوکری کی لوٹ کی رسم اچھی طرح یاد تھی۔ دو بیا ہے ہوئے بھائیوں کا ساری عمر ایک ہی گھر میں رہنا کسی قدر مشکل ہوتا ہے۔ خصوصاً جب کہ ان میں سے ایک تو صبح و شام گھی شکر میں ملا کر کھانا پسند کرے اور دوسرا اپنی قبول صورت بیوی کے سامنے ایسی ...

مزید پڑھیے

رد عمل

جلال کو بالآخر فرصت مل ہی گئی کہ وہ اپنی عیش و نشاط کی محفل کو چھوڑ اور دختِ رز سے رخصت لے کر اپنے مرتے چچا کو اس کی درخواست پر ایک دفعہ دیکھ لے۔ ابھی ابھی تھوڑا سا مینہ برسا۔ حبیب منزل کے سامنے پانی نشیب میں کھڑا ہو گیا۔ صرف گزرنے کے لیے ایک چھوٹی سی مخدوش پگڈنڈی رہ گئی۔ جلال نے ...

مزید پڑھیے

اپنے دکھ مجھے دے دو

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے ...

مزید پڑھیے

معاون اور میں

وہ گنتی میں پانچ تھے، پورے پانچ۔ زرد رو اور پژمردہ سے چھوکرے۔۔۔ یوں دکھائی دیتا تھا جیسے جان بخش ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے اور روشنی کی ایک کرن کے لیے ترس گئے ہوں۔ ان کی آنکھیں دور تک اندر دھنس گئی تھیں اور روشنی کے انحراف پر کھڑے ہونے کی وجہ سے صرف چند تاریک سے گڑھے دکھائی دیتی ...

مزید پڑھیے

کوارنٹین

پلیگ اور کوارنٹین! ہمالہ کے پاؤں میں لیٹے ہوئے میدانوں پر پھیل کر ہر ایک چیز کو دھندلا بنا دینے والی کہرے کے مانند پلیگ کے خوف نے چاروں طرف اپنا تسلط جما لیا تھا۔ شہر کا بچہ بچہ اس کا نام سن کر کانپ جاتا تھا۔ پلیگ تو خوف ناک تھی ہی، مگر کوارنٹین اس سے بھی زیادہ خوف ناک تھی۔ لوگ ...

مزید پڑھیے

چیچک کے داغ

اب وہ ایسی جگہ کھڑا تھا جہاں کسی کی تنقیدی نگاہ نہیں پہنچتی تھی۔۔۔لوہے کے بڑے کیلوں والے، بلند شہری پھاٹک کے پیچھے، جہاں ڈھور کا سارا گوبر بکھرا پڑا تھا اور اس کی بدبو، ماگھ کی دھند کی طرح، سطح زمین کے ساتھ ساتھ تیر رہی تھی۔ جہاں اس کی بہن ایک بٹھل میں، گلی کی کسی زچہ کے لیے، ...

مزید پڑھیے

بھولا

میں نے مایا کو پتھر کے ایک کوزے میں مکھّن رکھتے دیکھا۔ چھاچھ کی کھٹاس کو دور کرنے کے لیے مایا نے کوزے میں پڑے ہوئے مکھن کو کنویں کے صاف پانی سے کئی بار دھویا۔ اس طرح مکھن کے جمع کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی۔ ایسی بات عموماً مایا کے کسی عزیز کی آمد کا پتا دیتی تھی۔ ہاں! اب مجھے یاد آیا۔ ...

مزید پڑھیے

بکی

’’16؟‘‘ ’’جی آں۔۔۔ 16، تیسری قطار میں ۔‘‘ بکی نے ایک ہاتھ سے اپنے بالوں کو دباتے ہوئے کہا، ’’آپ کو زحمت اٹھانے کی نوبت ہی نہ آئے گی صاب، کنڈکٹر آپ کی مدد کرے گا۔‘‘ ’’شکریہ، شکریہ‘‘ کہتے ہوئے نوجوان مسکرایا اور مسکراتے ہوئے اس نے ایک اور چونی کونٹر پر رکھ دی۔ چونی جیب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5969 سے 6203