بے ثمر عذاب
میں اپنی تاریخِ پیدائش بھول گیا ہوں اور اب تذبذب کی سیڑھیوں پر کھڑا اپنی عمر کا تعیّن کر رہا ہوں۔ کبھی لگتا ہے کہ زندگی کے مٹیالے کاغذ پر بنا ہزاروں سال پرانا نقش ہوں۔ تاریخ کے پھڑپھڑاتے صفحوں کے ساتھ سانس لینے کی کوشش، حال کی چار دیواری پھلانگ کر ماضی کے دھند لکے موسموں میں دیر ...