گھر میں بازار میں
دیوار پر لٹکتے ہوئے ’’شیکوشا‘‘ نے صبح کے آٹھ بجا دیے۔ درشی نے آنکھ کھولی اور ایک سوالیہ نگاہ سے نئے آبنوسی کلاک کی طرف دیکھا، جس کی آٹھ سریلی ضربیں اس کے ذہن میں گونج پیدا کرتی ہوئی ہر لحظہ مدھم ہو رہی تھیں۔۔۔ ایک گھٹیا سا قالین تھا اور یہی ایک کلاک جو درشی کے استاد نے اسے شادی ...