قومی زبان

واپسی سے پہلے

ان دنوں ایک نیا جوڑا وولگاپر آیا تھا۔ وولگا کے ساحلی علاقوں میں جون کے پہلے ہفتے سے رونقیں بڑھنے لگتی تھیں۔ داچا آباد ہونے لگتے تھے اور رنگین اور خوبصورت چھتریاں چمک اٹھتی تھیں۔ ہر سال دنیا بھر کے خصوصاً ماسکوواسی مچھلی پکڑ نے والے شائقین سیاحوں سے یہ ویران ا ور خالی علاقہ ایک ...

مزید پڑھیے

داڑھی

’شرما وِلا‘ میں رہنے والے ایک ایک فرد کا چہرہ سوال بنا ہوا تھا۔ اے پی شرما ملازمت سے سبک دوش ہو چکے انردھ پرساد شرما شام پانچ بجے اِوننگ واک کے لیے گھر سے نکلے تھے اور ابھی رات کے دس بجے تک واپس نہیں لوٹے تھے۔ دو بیٹوں بڑے اور چھوٹے، دو بہوؤں بڑی اور چھوٹی اور سونو نام کے ایک ...

مزید پڑھیے

شاہ موش

یہ سارا قصہ شاملات کے کیس کی فائیل سے شروع ہوا تھا۔ بھائی جان،وہ پہلا اور آ خری دن تھا جب اس کا اور میرا آمنا سامنا ہوا۔ایسے کیا دیکھ رہے ہیں،بھابھی جان سے کہیے ،یہ ٹھنڈا دودھ تھوڑا اور بھیج دیں،بہت مزے دار ہے۔ہاں،ابھی اس گلاس میں اور ڈال دیجیے۔ آہا،کیا دن ہوتے تھے۔تھوڑا تھوڑا ...

مزید پڑھیے

داغ دار

صبح سویرے الارم کی آواز نے،ہر روز کی طرح،اسے جگا دیا۔اس نے آنکھیں کھولیں۔اور ایک لحظہ کے لیے سوچنے کی کوشش کی کہ وہ کہاں ہے۔اس کا اپنا ہی بستر،اور اپنا ہی کمرہ اسے نا ما نوس محسوس ہو رہا تھا۔ملگجے سے اندھیرے میں پہچان کی نشانیاں ڈھونڈتے ہوئے ،اس نے الارم کی گھنٹی کو بند کیا اور ...

مزید پڑھیے

دینو بابا

دینو بابااگر یورپ میں کہیں پیدا ہوتا تو ڈینیل نام پاتا،اور اگر کسی ممی ڈیڈی گھرانے کا چشم و چراغ ہوتا تو ڈینی کے لقب سے پکارا جاتا لیکن وہ پیدا ہوامرادآباد جیسے نیم شہری،نیم ترقی یافتہ قصبے کے اکلوتے عیسائی محلے میں،لہٰذا دانیال بھی نہ رہ سکا اور پکارنے والے اسے دینو پکارنے ...

مزید پڑھیے

لب گور

نچلے اور نچلے متوسط طبقے کی معدوم ہوتی لکیر پہ بسے اس محلے کے باسیوں میں صبح سویرے ہی ہا ہا کار مچ گئی۔محلے کی عورتیں ایک دوسری کو یہ خبر سنانے کے لیے اتنی بے صبر ہو رہی تھیں کہ اپنے مردوں کی گھروں سے رخصتی کا انتظار کرنے کی روادار بھی نہیں تھیں۔ہر ایک کی خواہش تھی کہ رات بھر کے ...

مزید پڑھیے

اشتباۂ فہم

تاریکی میں ڈوبے بال روم کے عین وسط میں لگا اینٹی کلاک وائز گھومتا بلوریں فانوس اپنے دھنک رنگ برقی قمقموں سے گاہے گاہے اندھیرے کا کلیجہ چھلنی کئے جاتا تھا۔ ریشم و اطلس کے سرسراتے رنگین لبادے ہر نظر کو خیرہ کیے دیتے، فضا مردانہ عطر کی دبیز مشک اور زنانہ پرفیوم کی بھینی بھینی مہک ...

مزید پڑھیے

قلم کی امامت

مرمری سے دودھیا جبہ و سیہ عمامہ میں مستور وہ نوجوان کسی عمیق فکر کے زیرِ اثر ماحول پہ تنے سکوت کا اک ساکن حصہ محسوس ہوتا تھا۔ کنپٹی پہ رگیں سوچ کی پکی گانٹھ سے بندھی رکھی تھیں، دندان تلے دبے دندان، جبڑوں کے ابھاروں کو کسی مصور کی کھنچی لکیروں کی طرح واضح کئے دیتے اور بھینچی ہوئی ...

مزید پڑھیے

منتظر

ایک شاہانہ محل، اونچی اونچی دیواریں، قلعہ نما عمارت جہاں داخلی راستے سے لے کر محل کی سیڑھیوں تک شمع دان موجود تھے، پہرہ دینے کے لئے۔ اس حویلی کی خاص بات یہی تھی کہ کوئی پہرہ دار نہ ہوتے ہوئے بھی ڈھیروں پہرہ دار تھے، اتنی روشنیوں کی صورت میں وہ روشنی اور وہ اجالے ہی تو اس حویلی پر ...

مزید پڑھیے

جیون جل

’’اے ذی وقار شہزادی ! یہ ہے راز کوہ ندا کا‘‘۔ اجنبی ہواؤں کی ذائقہ شناس او ر طویل مسافتوں کی دھول میں اٹے حاتم نے کوہ ندا کا تمام ماجرا گوش گزار کیا۔۔۔ مکمل دل جمعی سے! حاتم کی آمد کا اعلان ہونے کے بعد ، ہر چند شہزادی مصررہی کہ اس نے بہت ہرج مرج کھینچا ہے، پہلے آب خنک و معطر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5949 سے 6203