قومی زبان

نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھی

نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھی تری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھی چرا لیں ہم سے بھی اس خود پرست نے آنکھیں دل حبیب سے آخر اگر گئے ہم بھی پسیجا دل نہ کسی کا ہمارے اشکوں سے ہر آستاں پہ لیے چشم تر گئے ہم بھی جو دیکھا کلیوں کو تجھ پر نثار ہوتے ہوئے تو رنگ بن کے فضا میں بکھر گئے ہم ...

مزید پڑھیے

ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہو

ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہو ہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہو ٹھکرا کے چلے جانا ہے برحق تمہیں لیکن بس رکھنا خیال اتنا جہاں کو نہ خبر ہو وہ شب جو ستاروں سے بھری ہو تو ہمیں کیا پہلو میں اگر تیرے مری شب نہ بسر ہو گرجا ہے بڑے زور سے بادل ذرا دیکھو بجلی سے گری جس پہ کہیں میرا نہ ...

مزید پڑھیے

جب کبھی ذکر یار کا آیا

جب کبھی ذکر یار کا آیا ایک جھونکا بہار کا آیا عشق کچے گھڑے پہ ڈوب گیا لمحہ جب انتظار کا آیا آ گئے دل میں وسوسے کتنے وقت جب اعتبار کا آیا پاس تیر و کماں نہ تھے اپنے جب بھی موسم شکار کا آیا ہم نے ٹھکرا دیا جہاں کو جوشؔ مرحلہ جب وقار کا آیا

مزید پڑھیے

قدیم معبدوں کا محافظ

(نذر نیر مسعود) پرانی عبادت گاہوں میں جانا، ان کے درودیوار کو دیرتک دیکھتے رہنا اور ان کے اندرونی نیم تاریک نم حصوں میں پہنچ کر سونگھ سونگھ کر پرانے پن کومحسوس کرنا میرا بچپن کا مشغلہ ہے۔ ایسا میں جب کرتا ہوں جب غروب کا وقت ہوتا ہے اوراندھیرے کی پوشاک پہن کر درخت چپ چاپ کھڑے ہو ...

مزید پڑھیے

آخری بن باس

کانس کی جھاڑیوں کے درمیان کچے دگڑے پر یکے نے موڑ کاٹا، کالی ندی کے پل کو پارکیا اور پھر چار کوس کا راستہ اتنی تیزی سے پورا کیا کہ یکے میں بیٹھی اکلوتی سواری۔۔۔ بوڑھے سادھو جیسے آدمی کے ماتھے پر درد کی لکیریں اور گہری پڑگئیں۔ اب سامنے میدان کی سب سے بڑی ندی تھی۔ یہاں سے وہاں تک ...

مزید پڑھیے

ڈار سے بچھڑے

شروع جنوری کے آسمان میں ٹکے ستاروں کی جگمگاہٹ کہرے کی موٹی تہہ میں کہیں کہیں جھلک رہی تھی۔ جیپ کی ہیڈ لائٹس کی دو موٹی موٹی متوازی لکیریں آگے بڑھ رہی تھیں۔ سڑک بالکل سنسان تھی۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ سناٹے کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، یا پھر جیپ کے انجن کی آواز اور سڑک کے درختوں کی ...

مزید پڑھیے

جنرل نالج سے باہر کا سوال

old man

گول چبوترے پرکھڑے ہوکر چاروں راستےصاف نظرآتے ہیں، جن پر راہ گیر سواریاں اورخوانچے والے چلتے رہتے ہیں۔ چبوترے پرجو بوڑھا آدمی لیٹا ہے، اس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹےہیں۔ کہیں کہیں پیوند بھی لگے ہیں۔ اس کی داڑھی بےتریب ہے اورچہرے پرلاتعداد شکنیں ہیں۔ آنکھوں کی روشنی مدھم ہوچکی ...

مزید پڑھیے

آخری موڑ پر

ریل رات کے دو بجے آنے والی تھی اور پلیٹ فارم تقریباً سنسان ہو چکا تھا۔ سراج چاروں کا انتظار کرتے کرتے بیزار ہو چکا تھا۔ اس نے چوتھی مرتبہ گھڑی دیکھی۔ ابھی وقت تھا۔ سردی بہت شدید تھی اور کہرا پلیٹ فارم کے فولادی شیڈ میں سرمئی شامیانے کی طرح تنا ہوا تھا۔ پلیٹ فارم کی بتیاں مومی ...

مزید پڑھیے

باد صبا کا انتظار

ڈاکٹر آبادی میں داخل ہوا۔ راستے کے دونوں جانب اونچے کشادہ چبوتروں کا سلسلہ اس عمار ت تک چلا گیا تھا جو ککیا اینٹ کی تھی جس پر چونے سے قلعی کی گئی تھی۔ چبوتروں پر انواع و اقسام کے سامان ایک ایسی ترتیب سے رکھے تھے کہ دیکھنے والوں کو معلوم کئے بغیر قیمت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ سامان ...

مزید پڑھیے

اندھا اونٹ

(محمد عمر میمن کے نام) بورخیس پر محمد عمر میمن کے کام سے اہل نظر واقف ہیں۔ اس کہانی کا مرکزی خیال بورخیس کی کہانی کے ایک منظر سے مستعار ہے۔ سامان رکھ کر میں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ اس سے ملنا ضروری ہے۔ میں خاموشی کے ساتھ گھر سے باہر آگیا۔ باہر پوس کی رات تھی اور کہرا اور قصبوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5903 سے 6203