قومی زبان

اسیران قفس ایسا تو ہو طرز فغاں اپنا

اسیران قفس ایسا تو ہو طرز فغاں اپنا کہ ہو صیاد خود بھی رفتہ رفتہ ہمزباں اپنا کئے جا کام ہاں اے گردش دور زماں اپنا ہمیں بھی دیکھنا ہے کیسے مٹتا ہے نشاں اپنا عدو ہیں بجلیاں اپنی نہ دشمن آسماں اپنا ہمیں خود اپنے ہاتھوں پھونکتے ہیں آشیاں اپنا نہ کھو دے سست گامی ہم کو بازی گاہ ہستی ...

مزید پڑھیے

باب قفس کھلنے کو کھلا ہے

باب قفس کھلنے کو کھلا ہے باہر بھی تو دام بچھا ہے اس کے سوا سب بھول گیا ہوں جب سے وہ مرے دل میں بسا ہے بڑھنے لگی ہے دل کی دھڑکن شاید اس نے یاد کیا ہے قافلے والو خیر مناؤ رہزن ہی جب راہنما ہے ساحل ساحل بھی کیا چلنا موجوں پہ سفینہ ڈال دیا ہے اپنی مرضی اپنی رضا کیا سب سے بڑھ کر اس ...

مزید پڑھیے

دل کی بات کیا کہئے دل عجیب بستی ہے

دل کی بات کیا کہئے دل عجیب بستی ہے روز یہ اجڑتی ہے اور روز بستی ہے پہلے اپنی حالت پہ ہنس لے خود ہی جی بھر کے دیکھ کر مجھے دنیا طنز سے جو ہنستی ہے آج کا زمانہ بھی واہ کیا زمانہ ہے زندگی بہت مہنگی موت کتنی سستی ہے اس سے دور کیا ہوگی تیرگی زمانے کی شمع روشنی کو خود آج جب ترستی ہے

مزید پڑھیے

عجیب شہر کا نقشا دکھائی دیتا ہے

عجیب شہر کا نقشا دکھائی دیتا ہے جدھر بھی دیکھو اندھیرا دکھائی دیتا ہے نظر نظر کی ہے اور اپنے اپنے ظرف کی بات مجھے تو قطرے میں دریا دکھائی دیتا ہے برا کہے جسے دنیا برا نہیں ہوتا مری نظر میں وہ اچھا دکھائی دیتا ہے نہیں فریب نظر یہ یہی حقیقت ہے مجھے تو شہر بھی صحرا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

ان کو میں نے اپنا کہا ہے

ان کو میں نے اپنا کہا ہے اتنی ہی بس اپنی خطا ہے راہی حیراں دیکھ رہا ہے رہزن ہی اب راہنما ہے یہ دل ان سے جب سے لگا ہے ان کے سوا سب بھول گیا ہے اس جینے سے باز ہم آئے جینا کیا ہے ایک سزا ہے لب کھلتے ہی پھول ہیں جھڑتے کتنی پیاری ان کی ادا ہے

مزید پڑھیے

مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم

مانوس ہو گئے ہیں غم زندگی سے ہم ہم کو خوشی ملے تو نہ لیں گے خوشی سے ہم پھولوں کی آرزو نہ کریں گے کسی سے ہم کانٹے سمیٹ لائے ہیں ان کی گلی سے ہم ہم شام غم کو صبح مسرت کا نام دیں سورج کریں طلوع نہ کیوں تیرگی سے ہم سچ کے لئے ہم آج کے سقراط بن گئے پیتے ہیں جام زہر کا اپنی خوشی سے ہم ہم ...

مزید پڑھیے

قفس نصیبوں کا اف حال زار کیا ہوگا

قفس نصیبوں کا اف حال زار کیا ہوگا پھر آ رہی ہے چمن میں بہار کیا ہوگا دل و جگر پہ لیے ہوں گے زخم کتنوں نے کوئی ہماری طرح دل فگار کیا ہوگا اسی خیال سے میں عرض شوق کر نہ سکا حیا سے رنگ رخ تاب دار کیا ہوگا بہار دے نہ سکی ایک پھول کو بھی نکھار خزاں کے ساتھ ہے رنگ بہار کیا ہوگا فسردہ ...

مزید پڑھیے

دی گئی ترتیب بزم کن فکاں میرے لئے

دی گئی ترتیب بزم کن فکاں میرے لئے یہ زمیں میرے لئے ہے آسماں میرے لئے دیدنی ہے خود ہی اپنے دل کے زخموں کی بہار ہیچ ہے رنگینئ ہر گلستاں میرے لئے ذوق سجدہ چاہیے کیسا حرم کیسی کنشت آستان دوست ہے ہر آستاں میرے لئے جادۂ مہر و وفا میں مر کے زندہ ہو گیا موت ہے میری حیات جاوداں میرے ...

مزید پڑھیے

کیا مسرت ہے پوچھئے ہم سے

کیا مسرت ہے پوچھئے ہم سے ہے عبارت ہر اک خوشی غم سے عرق آلود آپ کا چہرہ ہو دھلا پھول جیسے شبنم سے ضبط گریہ سے راز غم تھا چھپا کھل گیا آج چشم پر نم سے درد دل کا نہیں کوئی درماں زخم کیا مندمل ہو مرہم سے در حقیقت قریب رہتے ہیں وہ بظاہر ہی دور ہیں ہم سے جب ازل سے خطا ضمیر میں ہے کیوں ...

مزید پڑھیے

سرشار ہوں ساقی کی آنکھوں کے تصور سے

سرشار ہوں ساقی کی آنکھوں کے تصور سے ہے کوئی غرض مجھ کو بادہ سے نہ ساغر سے اس دور میں میخانے کا نظم نرالا ہے پی کر کوئی بہکے ہم اک جرعہ کو بھی ترسے کتنے ہیں جو اک قطرہ سے پیاس بجھاتے ہیں سیراب نہیں ہوتے کچھ لوگ سمندر سے ہشیار بہت رہنا ہے آج کے راہی کو جتنا نہیں رہزن سے ڈر اتنا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5888 سے 6203