دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے
دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے کچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کے اب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیں یہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیں اب تم ہی کہہ رہے ہو کہ تنہائی ...