قومی زبان

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے کچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کے اب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیں یہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیں اب تم ہی کہہ رہے ہو کہ تنہائی ...

مزید پڑھیے

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں کوچ کر جائیں کب کچھ بھروسا نہیں ہیں فصیلوں سے الجھے ہوئے سرپھرے دور تک کوئی شہر تمنا نہیں شام سے ہی گھروں میں پڑیں کنڈیاں چاند اس شہر میں کیوں نکلتا نہیں آگ لگنے کی خبریں تو پہنچیں مگر کوئی حیرت نہیں کوئی چونکا نہیں چھین کر مجھ سے لے جائے ...

مزید پڑھیے

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے کوئی صدا ہمیں روکے گی اس گمان میں تھے عجیب بستی تھی چہرے تو اپنے جیسے تھے مگر صحیفے کسی اجنبی زبان میں تھے بہت خوشی ہوئی ترکش کے خالی ہونے پر ذرا جو غور کیا تیر سب کمان میں تھے علاج ڈھونڈھ نکالیں گے اپنی وحشت کا جنوں نواز ابھی تک اسی گمان ...

مزید پڑھیے

دیار خواب

دیار خواب کے ادھر مسافروں کی بستیاں نشیلی کالی بدلیاں شرابیوں کی ٹولیاں نشہ بڑھاتی دھانی دھانی چیزیاں مہکتے کنوارے جسم چلمنوں کی تیلیاں سجیلی ریشمی پروں میں رنگ برنگی تتلیاں پکی پکائی عورتوں میں شہوتوں کی بجلیاں ذرا سی رات بھیگ جائے، پھر سنو اندھیرے کی زباں تھکے تھکائے جسم ...

مزید پڑھیے

قصہ گو

وہی قصہ گو جو اک روز قصہ سناتے سناتے کسی پیاس کو یاد کرتا ہوا، اٹھ گیا تھا پھر اک روز لوگوں سے یہ بھی سنا تھا کہ وہ، پیاس ہی پیاس کی رٹ لگاتا ہوا اک کنویں میں گرا تھا ادھر کچھ دنوں سے یہ افواہ گردش میں ہے کہ وہ قصہ گو جسے بھی دکھائی دیا ہے وہ بس! پیاس ہی پیاس کی رٹ لگاتا ہوا کنویں کی ...

مزید پڑھیے

طے شدہ موسم

مسافر ہوئے پھر اک اندھے سفر کے پتہ طے شدہ موسموں کا کہیں کھو گیا ہے بڑے شہر کے اک کلب میں دیوالی مناتے ہوئے کل کسی نے کہا تھا سنما کے پردے کئی تیج تیوہار میلے سمیٹے ہوئے ہیں تمہیں فکر کیسی یہ کیوں رنگ چہرے کا پھیکا پڑا ہے تمہیں سست قدموں پہ نادم ہوئے تھے تمہیں کو ہوس تھی کہ رفتار ...

مزید پڑھیے

پہلا خطبہ

پھر اک جم غفیر ایک میدان میں آسماں کی طرف دیر سے تک رہا ہے! امرأ القیس کی بیٹیاں شاعری کی زباں پھر سمجھنے لگیں لپلپاتی زبانیں خطابت کا جادو جگانے لگیں وہ خدا زادیاں مسکرانے لگیں اور میلوں میں پھر بھیڑ بڑھنے لگی کوئی منبر سے بولا کہ اے میرے پیارو! تمہیں اپنے اگلوں کی عمریں ...

مزید پڑھیے

دھواں اٹھ رہا ہے

دھواں اٹھ رہا ہے افق سے دھواں اٹھ رہا ہے سمندر کی سانسیں اکھڑنے لگی ہیں بہت دھیمی دھن پر کوئی ماہیا گا رہا ہے حرکت حرکت حرکت حرکت قویٰ شل ہوئے جا رہے ہیں اچانک وہ آبی پرندوں کو اڑتا ہوا دیکھتے ہیں سبھی چیختے ہیں تو سلطان صاحب سریر آمدی علیٰ کل شئ قدیر آمدی کلیسا شوالے مقدس ...

مزید پڑھیے

پرچھائیاں پکڑنے والے

ڈائری کے یہ سادہ ورق اور قلم چھین لو آئینوں کی دکانوں میں سب اپنے چہرے لیے اک برہنہ تبسم کے محتاج ہیں سرد بازار میں ایک بھی چاہنے والا ایسا نہیں جو انہیں زندگی کا سبب بخش دے دھند سے جگمگاتے ہوئے شہر کی بتیاں سجدہ کرتی ہوئی کہکشاں خوبصورت خداؤں کی پھرتی ہوئی ٹولیاں ایسا لگتا ہے ...

مزید پڑھیے

واپسی

اذیت اور اس سکوں دونوں کو ہی دل کھول کے میں نے لٹایا ہے ہزاروں بار ایسا بھی ہوا ہے دوستوں کی رہنمائی میں پھرا ہوں مارا مارا شہر کی آباد سڑکوں پر کبھی ویران گلیوں میں کبھی صحراؤں کی بھی خاک چھانی ہے مگر اس بار جانے کیا ہوا مجھ کو نمائش کی دکانوں میں سجا کر خود کو گھر واپس چلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5873 سے 6203