قومی زبان

نجات

نزول عتاب کی گھڑی نزدیک ہے۔۔۔ درباری کتے! روپوش باغیوں کی تلاش میں زمینیں سونگھتے پھر رہے ہیں سربراہوں کی قوت فیصلہ جواب دے چکی ہے ان کے مفلوج ہاتھ درباریوں کے رچائے شڑینتروں پر کیوں دستخط کرنے کی مشینیں ہیں ان کی زبانیں صرف دھمکیاں بولتی ہیں ان کے انا پرست کان گڑگڑاہٹیں سننے ...

مزید پڑھیے

شناسا آہٹیں

ادھر کئی دنوں سے دور دور تک بھی نیند کا پتہ نہیں کسیلے کڑوے ذائقے ٹپک رہے ہیں آنکھ سے کئی پہر گزر چکے طویل کالی رات کے میں سن رہا ہوں دیر سے ہزاروں بار کی سنی سنائی دستکیں کبھی شناسا آہٹیں کبھی نشیلی سرسراہٹیں کواڑ کھولتے ہی دستکیں! وہ آہٹیں نشیلی سرسراہٹیں خراج روٹھی نیند کا ...

مزید پڑھیے

فریادی ماتم

خدائے لم یزل کی بارگاہ میں سر بہ سجود! انا کی چوکھٹوں میں جڑے چہروں والے لوگ پیشانیوں پر گٹے ڈالنے میں مصروف ہیں آٹے میں سنی مٹھیاں ان کی بخشش کی ضمانت ہیں یہ کون سی جنت نعیم ہے جس کا راستہ چیونٹیوں کی بانبی سے ہو کر گزرتا ہے دربانوں اور کتوں کو کھلی آزادی ہے 'جاگتے رہو' کی ...

مزید پڑھیے

آوارہ پرچھائیاں

سارے دن کی تھکی، ویران اور بے مصرف رات کو ایک عجیب مشغلہ ہاتھ آ گیا ہے اب وہ! سارے شہر کی آوارہ پرچھائیوں کو جسم دینے کی کوشش میں مصروف ہے مجھے معلوم ہے اگر گم نام پرچھائیوں کو ان کی پہچان مل گئی تو شہر کے معزز اور عبادت گزار شریف زادے ہم شکل پرچھائیوں کے خوف سے پرچھائیوں میں ...

مزید پڑھیے

عقد نامے

آج انہوں نے اعلان کر ہی دیا دیکھو! ہم نے تمہاری سب کی سب قوتوں کا فیصلہ کیا تھا قیل و قال کی گنجائش باقی نہیں ہے تمہارے اقرار نامے ہمارے پاس محفوظ ہیں تم سے پہلے والوں کی خطا یہی تھی کہ انہیں، اپنی ناف کے نیچے سرسراہٹ کا احساس کچھ زیادہ ہی ہو چلا تھا انہیں شہر بدر کر دیا گیا ان کے ...

مزید پڑھیے

صحیح کہہ رہے ہو

صحیح کہہ رہے ہو شکایت بجا ہے تمہاری گھنے گرد چہرے تمہارے نہیں ہیں خزاں زادے شہروں کا رخ کر رہے ہیں گلابی ہرے نیلے پیلے سبھی رنگ موسم اڑا لے گیا ہے کوئی دھانی چونری ہوا سے نہیں کھیلتی ہے کہانی سناؤ کسی وقت بھی کہ دن رات کی قید باقی نہیں ہے سنا ہے مسافر کوئی راستہ اب نہیں ...

مزید پڑھیے

میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلے

میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلے مرے پروں کو ہوا کیا اڑان سے پہلے مرے نصیب میں رستوں کی دھول لکھی تھی نہ مل سکی مجھے منزل تکان سے پہلے یہ کون شخص تھا چالاک کس قدر نکلا کہ بات چھیڑ گیا درمیان سے پہلے میں اس کے درد کا درماں تو جانتا تھا مگر وہ کچھ تو بولتا اپنی زبان سے پہلے تم ...

مزید پڑھیے

آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہی

آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہی زندگی کن راستوں میں کن ٹھکانوں میں رہی وہ تو اک ہلکی سی دستک دے کے رخصت ہو گیا اک صدا رس گھولتی دن رات کانوں میں رہی لکھ گئی اپنے گھروں میں ایک کرب ناتمام زندگی گویا ہمارے مہربانوں میں رہی مٹ گئیں آنگن میں ساری کھیلتی پرچھائیاں ایک بے کیفی ...

مزید پڑھیے

ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تک

ہوا چلی ہے نہ پتا کوئی ہلا اب تک وہی ہے ایک خموشی کا سلسلہ اب تک وہ کون لوگ ہیں کس کی تلاش میں گم ہیں ہمیں تو اپنا پتہ بھی نہیں ملا اب تک تو اپنے چاہنے والوں سے آشنا نہ ہوئی یہی تو تجھ سے ہے اے زیست اک گلا اب تک کسی کا دامن صد چاک کیا رفو کرتے کہ ہم سے اپنا بھی دامن نہیں سلا اب ...

مزید پڑھیے

نئے زمانے کے نت نئے حادثات لکھنا

نئے زمانے کے نت نئے حادثات لکھنا اداس پھولوں کی زرد پتوں کی بات لکھنا فلک دریچوں سے جھانکتے خوش نما مناظر زمیں پہ بے زاریوں میں لپٹی حیات لکھنا تھکن کا احساس ہو تو کر لینا یاد اس کو ادھورے خوابوں کی سر پھری کائنات لکھنا سیاہی کس نے بکھیر دی کورے کاغذوں پر کہ اجلے الفاظ کھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5874 سے 6203