کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا
کسے بتاتے کہ منظر نگاہ میں کیا تھا ہر ایک رنگ میں اپنا ہی بس تماشا تھا ہم آج تک تو کوئی امتیاز کر نہ سکے یہاں تو جو بھی ملا ہے وہ تیرے جیسا تھا عجیب خواب تھا تعبیر کیا ہوئی اس کی کہ ایک دریا ہواؤں کے رخ پہ بہتا تھا نہ کوئی ظلم نہ ہلچل نہ مسئلہ کوئی ابھی کی بات ہے میں حادثے اگاتا ...