گدھے کے ساتھ اک لیڈر کا فوٹو
گدھے کے ساتھ اک لیڈر کا فوٹو ذرا دیکھو تو کیا بڑھیا چھپا ہے یہ فوٹو دیکھ کر اک شخص بولا نہ جانے کون سا ان میں گدھا ہے
گدھے کے ساتھ اک لیڈر کا فوٹو ذرا دیکھو تو کیا بڑھیا چھپا ہے یہ فوٹو دیکھ کر اک شخص بولا نہ جانے کون سا ان میں گدھا ہے
اے شیخ کنگھا کرنا نہیں زیب دیتا یوں داڑھی میں تو کبھی کوئی تنکا بھی چھوڑ دے ہر وقت اپنی بیوی کو رکھ ساتھ تو مگر ''لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے''
دل پہ اپنے چوٹ کھا کر رو دیئے عاشقی میں جھنجھلا کر رو دیئے لاٹھیوں سے عاشقوں نے جب دھنا آپ کے پہلو میں آ کر رو دیئے
کسی سے دل لگانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے نظر کی چوٹ کھانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے ترے کوچے میں ہی دو چار پڑ جاتے تو اچھا تھا مرے محبوب تھانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے
کہانی عشق و محبت کی ختم پر آئی ہوا خیال بچھڑنے کی رہ گزر آئی سرک گیا جو دوپٹا سفید بالوں سے ''ترے جمال کی دوشیزگی نظر آئی''
جو آپ پر فدا ہیں وہ میرے رقیب ہیں حیرت یہ ہے کہ آپ انہیں کے قریب ہیں بوسہ دیا ہے سامنے میرے رقیب کو واللہ آپ کتنے عجیب و غریب ہیں
دیا نیند نے ایسا آنکھوں کو دھوکا کہ کشتی لگی دور جا بہتے بہتے وہ بیٹھے رہے رات بھر آنکھ کھولے ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
وہ حال ہے ہر ایک بشر کانپ رہا ہے بیٹا بھی جھکائے ہوئے سر کانپ رہا ہے شوہر بھی ہے نوکر کی طرح کونے میں دبکا بیگم نے قدم رکھا تو گھر کانپ رہا ہے
عشق میں صبر آ گیا آثمؔ اور کیا ہوگا اس کمال کے بعد عشق پھولے پھلے گا اب شاید ان کے ابا کے انتقال کے بعد
زبان مادری پوچھی جو اک لڑکے سے کالج میں تو وہ بولا نہیں مجھ کو پتا کیا ہے زباں میری اگر سچ جاننا چاہیں تو سنئے ماسٹر صاحب ''زبان مادری کچھ بھی نہیں گونگی ہے ماں میری''