قومی زبان

آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا

آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا آرام جو دیکھا ہے بھلایا نہیں جاتا اللہ رے نادان جوانی کی امنگیں! جیسے کوئی بازار سجایا نہیں جاتا آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو اب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی لیکن کوئی روٹھے تو منایا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہم سے چناں چنیں نہ کرو ہم نشے میں ہیں

ہم سے چناں چنیں نہ کرو ہم نشے میں ہیں ہم جو کہیں نہیں نہ کرو ہم نشے میں ہیں نشہ کوئی ڈھکی چھپی تحریک تو نہیں ہر چند تم یقیں نہ کرو ہم نشے میں ہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی بانہوں میں آ گریں آنکھوں کو خشمگیں نہ کرو ہم نشے میں ہیں باتیں کرو نگار و بہار و شراب کی اذکار شرع و دیں نہ کرو ہم ...

مزید پڑھیے

ایک نامقبول قربانی ہوں میں

ایک نامقبول قربانی ہوں میں سرپھری الفت میں لا ثانی ہوں میں میں چلا جاتا ہوں واں تکلیف سے وہ سمجھتے ہیں کہ لا ثانی ہوں میں کان دھرتے ہی نہیں وہ بات پر کب سے مصروف ثنا خوانی ہوں میں زندگی ہے اک کرائے کی خوشی سوکھتے تالاب کا پانی ہوں میں مجھ سے بڑھ کر کیا کوئی ہوگا امیر قیمتی ...

مزید پڑھیے

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیٔ بہار جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے ...

مزید پڑھیے

بیٹھتا اٹھتا تھا میں یاروں کے بیچ

بیٹھتا اٹھتا تھا میں یاروں کے بیچ ہو گیا دیوار دیواروں کے بیچ جانتا ہوں کیسے ہوتی ہے سحر زندگی کاٹی ہے بیماروں کے بیچ میرے اس کوشش میں بازو کٹ گئے چاہتا تھا صلح تلواروں کے بیچ وہ جو میرے گھر میں ہوتا تھا کبھی اب وہ سناٹا ہے بازاروں کے بیچ تم نے چھوڑا تو مجھے یہ طائراں بھر کے ...

مزید پڑھیے

آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے یہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے جسم کی بوری سے باہر بھی کبھی نکل آؤں گا ابھی تو اس پر خوش ہوں اس نے زندہ چھوڑ دیا ہے ذہن مرا آزاد ہے لیکن دل کا دل مٹھی میں آدھا اس نے قید رکھا ہے آدھا چھوڑ دیا ہے جہاں دعا ملتی تھی اللہ جوڑی ...

مزید پڑھیے

اب پرندوں کی یہاں نقل مکانی کم ہے

اب پرندوں کی یہاں نقل مکانی کم ہے ہم ہیں جس جھیل پہ اس جھیل میں پانی کم ہے یہ جو میں بھاگتا ہوں وقت سے آگے آگے میری وحشت کے مطابق یہ روانی کم ہے دے مجھے انجم و مہتاب سے آگے کی خبر مجھ سے فانی کے لئے عالم فانی کم ہے غم کی تلخی مجھے نشہ نہیں ہونے دیتی یہ غلط ہے کہ تری چیز پرانی کم ...

مزید پڑھیے

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا

پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا جانے والے ترا جانا نہیں دیکھا جاتا تیری مرضی ہے جدھر انگلی پکڑ کر لے جا مجھ سے اب تیرے علاوہ نہیں دیکھا جاتا یہ حسد ہے کہ محبت کی اجارہ داری درمیاں اپنا بھی سایہ نہیں دیکھا جاتا تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے بار بار ایک ہی چہرہ نہیں ...

مزید پڑھیے

میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے

میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے یہ پرندے مجھے پاگل نہیں ہونے دیں گے تو خدا ہونے کی کوشش تو کرے گا لیکن ہم تجھے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے یار اک بار پرندوں کو حکومت دے دو یہ کسی شہر کو مقتل نہیں ہونے دیں گے یہ جو چہرہ ہیں یہاں چاند سے چہرہ تابشؔ یہ مرا عشق مکمل نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

یہ ہم کو کون سی دنیا کی دھن آوارہ رکھتی ہے

یہ ہم کو کون سی دنیا کی دھن آوارہ رکھتی ہے کہ خود ثابت قدم رہ کر ہمیں سیارہ رکھتی ہے اگر بجھنے لگیں ہم تو ہوائے شام تنہائی کسی محراب میں جا کر ہمیں دوبارہ رکھتی ہے چلو ہم دھوپ جیسے لوگ ہی اس کو نکال آئیں سنا ہے وہ ندی تہہ میں کوئی مہ پارہ رکھتی ہے ہمیں کس کام پر مامور کرتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5856 سے 6203