قومی زبان

ہوائے موسم گل سے لہو لہو تم تھے

ہوائے موسم گل سے لہو لہو تم تھے کھلے تھے پھول مگر ان میں سرخ رو تم تھے ذرا سی دیر کو موسم کا ذکر آیا تھا پھر اس کے بعد تو موضوع گفتگو تم تھے اور اب کہ جب صورت نہیں تلافی کی میں تم سے کیسے کہوں میری آرزو تم تھے کہانیوں میں تو یہ کام اژدہے کا تھا مری جب آنکھ کھلی میرے چار سو تم تھے

مزید پڑھیے

اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں

اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں شہر تہمت تری گلیوں میں پھرایا گیا میں میرے ہونے سے یہاں آئی ہے پانی کی بہار شاخ گریہ تھا سر دشت لگایا گیا میں یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا اس سے ملنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

نہ تجھ سے ہے نہ گلا آسمان سے ہوگا

نہ تجھ سے ہے نہ گلا آسمان سے ہوگا تری جدائی کا جھگڑا جہان سے ہوگا تمہارے میرے تعلق کا لوگ پوچھتے ہیں کہ جیسے فیصلہ میرے بیان سے ہوگا اگر یوں ہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا جدائی طے تھی مگر یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ تو جدا بھی جداگانہ شان سے ہوگا گزر رہے ...

مزید پڑھیے

پروں میں شام ڈھلتی ہے

کہاں جانا تھا مجھ کو کس نگر کی خاک بالوں میں سجانا تھی مجھے کن ٹہنیوں سے دھوپ چننا تھی کہاں خیمہ لگانا تھا مری مٹی رہ سیارگاں کی ہم قدم نکلی مری پلکوں پہ تارے جھلملاتے ہیں بدن میں آگ جلتی ہے مگر پاؤں میں خوں آشام رستے لڑکھڑاتے ہیں یہ کیا شیرازہ بندی ہے یہ میری بے پری کس کنج سے ہو ...

مزید پڑھیے

اسے میں نے نہیں دیکھا

وہ کیسی ہے اسے میں نے نہیں دیکھا سنا ہے وہ زمیں زادی دھنک سے اپنے خوابوں کے افق گل رنگ رکھتی ہے مرے خاشاک سے آگے کسی منظر میں رہتی ہے ہوا کے گھر میں رہتی ہے وہ کس سورج کا حصہ ہے وہ کس تارے کی مٹی ہے اسے میں نے نہیں دیکھا مری آنکھوں سے لے کر اس کی آنکھوں تک کسے معلوم ہے کتنے ستارے ...

مزید پڑھیے

وہ ہنستی ہے تو اس کے ہاتھ روتے ہیں

کسی کے بعد اپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہ مجھے کہتی ہے تابشؔ! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کو برے ہیں ناں؟ اگر یہ خوب صورت تھے تو ان میں کوئی بوسہ کیوں نہیں ٹھہرا'' عجب لڑکی ہے پورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہے صراحی دار گردن نرم ہونٹوں تیز نظروں سے وہ بد ظن ہے کہ ان ...

مزید پڑھیے

ادھوری نظم

اندھیری شام کے ساتھی ادھوری نظم سے زور آزما ہیں بر سر کاغذ بچھڑنے کی سنو ۔۔۔تم سے دل محزوں کی باتیں کہنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے کہیں سطر شکستہ کی طرح ہیں چار شانے چت کہیں حرف تمنا کی طرح دل میں ترازو ہیں سنو۔۔۔ ان نیل چشموں سخت جانوں بے زبانوں پر جو گزرے گی سو گزرے گی مگر میں ...

مزید پڑھیے

اندیشۂ وصال کی ایک نظم

شفق کے پھول تھالی میں سجائے سانولی آئی چراغوں سے لویں کھینچیں دریچوں میں نمی آئی میں سمجھا اس سے ملنے کی گھڑی آئی ہوا جاروب کش تھی آسماں آثار تنکوں کی جسے اپنی سہولت کے لیے دنیا... یہ تن آسان دنیا... اک مروت میں ہجوم خلق کہتی ہے مری آنکھیں تہی گلدان کی صورت منڈیروں پر گلی سے اٹھنے ...

مزید پڑھیے

پاگل

وہ آیا شہر کی طرف اک اس کی چاپ کی کھنک قیام روز عشق کی پکار تھی کہ برگ و بار خاک کا فشار تھی وہ آیا شہر کی طرف لپک کے اینٹ کی طرف وہ اس طرح بڑھا کہ جیسے نان خشک پر کوئی سگ گرسنہ گر پڑے وہ گالیوں بھری زباں گلی گلی چھلک پڑی ہر ایک جیب اس کی انگلیوں سے تار تار تھی کہ اس کی تھوتھنی سے ...

مزید پڑھیے

ابھی اس کی ضرورت تھی

صف ماتم بچھی ہے سخن کا آخری در بند ہونے کی خبر نے کھڑکیوں کے پار بیٹھے غمگساروں کو یہ کیسی چپ لگا دی ہے یہ کس کی ناگہانی موت پر سرگوشیوں کی آگ روشن ہے کسی کے کنج لب سے کوئی تارا میرے دل پر آن پڑتا ہے برا ہو موت کا جس نے مرے فریاد رس کی جان لے لی ہے ابھی اس کی ضرورت تھی میں اس دنیا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5857 سے 6203