قومی زبان

بے سبب کیوں تباہ ہوتا ہے

بے سبب کیوں تباہ ہوتا ہے فکر فردا گناہ ہوتا ہے تجھ کو کیا دوسروں کے عیبوں سے کیوں عبث رو سیاہ ہوتا ہے مجھ کو تنہا نہ چھوڑ کر جاؤ یہ خلا بے پناہ ہوتا ہے زک اسی سے بہت پہنچتی ہے جو مرا خیر خواہ ہوتا ہے اس گھڑی اس سے مانگ لو سب کچھ جب عدمؔ بادشاہ ہوتا ہے

مزید پڑھیے

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد اب وہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ جب سے چلی ہے آدم و یزداں کی داستاں ہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے ساتھ مہمان میزباں ہی کو بہکا کے لے اڑا خوشبوئے گل بھی گھوم رہی ہے صبا ...

مزید پڑھیے

زخم دل کے اگر سیے ہوتے

زخم دل کے اگر سیے ہوتے اہل دل کس طرح جیے ہوتے وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی کاش تھوڑی سی ہم پیے ہوتے آرزو مطمئن تو ہو جاتی اور بھی کچھ ستم کیے ہوتے لذت غم تو بخش دی اس نے حوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے

مزید پڑھیے

ہنس کے بولا کرو بلایا کرو

ہنس کے بولا کرو بلایا کرو آپ کا گھر ہے آیا جایا کرو مسکراہٹ ہے حسن کا زیور مسکرانا نہ بھول جایا کرو حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو تاکہ دنیا کی دل کشی نہ گھٹے نت نئے پیرہن میں آیا کرو کتنے سادہ مزاج ہو تم عدمؔ اس گلی میں بہت نہ جایا کرو

مزید پڑھیے

آتا ہے کون درد کے ماروں کے شہر میں

آتا ہے کون درد کے ماروں کے شہر میں رہتے ہیں لوگ چاند ستاروں کے شہر میں ملتا تو ہے خوشی کی حقیقت کا کچھ سراغ لیکن نظر فریب اشاروں کے شہر میں ان انکھڑیوں کو دیکھ کے ہوتا ہے یہ گماں ہم آ بسے ہیں بادہ گساروں کے شہر میں اے دل ترے خلوص کے صدقے! ذرا سا ہوش دشمن بھی بے شمار ہیں یاروں کے ...

مزید پڑھیے

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیں تھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگی مجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے شاید ترے ...

مزید پڑھیے

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظر یک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا فوٹو میں دل کی چوٹ نہ تبدیل ہو سکی نقلیں اتار اتار کے عکاس رہ گیا وہ جھوٹے موتیوں کی چمک پر پھسل گئی میں ہاتھ میں لیے ہوئے الماس رہ گیا اک ہم ...

مزید پڑھیے

جب ترے نین مسکراتے ہیں

جب ترے نین مسکراتے ہیں زیست کے رنج بھول جاتے ہیں کیوں شکن ڈالتے ہو ماتھے پر بھول کر آ گئے ہیں جاتے ہیں کشتیاں یوں بھی ڈوب جاتی ہیں ناخدا کس لیے ڈراتے ہیں اک حسیں آنکھ کے اشارے پر قافلے راہ بھول جاتے ہیں

مزید پڑھیے

ان کو عہد شباب میں دیکھا

ان کو عہد شباب میں دیکھا چاندنی کو شراب میں دیکھا آنکھ کا اعتبار کیا کرتے جو بھی دیکھا وہ خواب میں دیکھا داغ سا ماہتاب میں پایا زخم سا آفتاب میں دیکھا جام لا کر قریب آنکھوں کے آپ نے کچھ شراب میں دیکھا کس نے چھیڑا تھا ساز مستی کو؟ ایک شعلہ رباب میں دیکھا لوگ کچھ مطمئن بھی تھے ...

مزید پڑھیے

گرتے ہیں لوگ گرمئ بازار دیکھ کر

گرتے ہیں لوگ گرمئ بازار دیکھ کر سرکار دیکھ کر مری سرکار دیکھ کر آوارگی کا شوق بھڑکتا ہے اور بھی تیری گلی کا سایۂ دیوار دیکھ کر تسکین دل کی ایک ہی تدبیر ہے فقط سر پھوڑ لیجئے کوئی دیوار دیکھ کر ہم بھی گئے ہیں ہوش سے ساقی کبھی کبھی لیکن تری نگاہ کے اطوار دیکھ کر کیا مستقل علاج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5855 سے 6203