سلسلے اونچے خیالات سے جوڑے ہم نے
سلسلے اونچے خیالات سے جوڑے ہم نے جانور لاغر و کمزور نہ چھوڑے ہم نے مدرسے کے لئے پیسہ تھا کمانا یوں ہی بھینس تو بھینس ہے کٹوا دیئے گھوڑے ہم
سلسلے اونچے خیالات سے جوڑے ہم نے جانور لاغر و کمزور نہ چھوڑے ہم نے مدرسے کے لئے پیسہ تھا کمانا یوں ہی بھینس تو بھینس ہے کٹوا دیئے گھوڑے ہم
عاشقوں کی تو ہے بھر مار ترے کوچے میں روز ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں آ ذرا دیکھ تو نیچے تو اتر کر ظالم جمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میں
مشاعروں میں ہوا ہوٹ جو مسلسل میں تو ایک شخص یہ بولا تو مسخرا بن جا اگر تو لوٹنا چاہے مشاعرے آثمؔ تو چھوڑ چھاڑ کے سب کچھ تو شاعرہ بن جا
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں اے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتا دے بادۂ گلفام میں کچھ سوچ رہا ...
مسکرا کر خطاب کرتے ہو عادتیں کیوں خراب کرتے ہو مار دو مجھ کو رحم دل ہو کر کیا یہ کار ثواب کرتے ہو مفلسی اور کس کو کہتے ہیں! دولتوں کا حساب کرتے ہو صرف اک التجا ہے چھوٹی سی کیا اسے باریاب کرتے ہو ہم تو تم کو پسند کر بیٹھے تم کسے انتخاب کرتے ہو خار کی نوک کو لہو دے کر انتظار گلاب ...
چھیڑو تو اس حسین کو چھیڑو جو یار ہو ایسی خطا کرو جو ادب میں شمار ہو بیٹھی ہے تہمتوں میں وفا یوں گھری ہوئی جیسے کسی حسین کی گردن میں بار ہو دن رات مجھ پہ کرتے ہو کتنے حسین ظلم بالکل مری پسند کے مختار کار ہو کتنے عروج پر بھی ہو موسم بہار کا ہے پھول صرف وہ جو سر زلف یار ہو اک سچا ...
بس اس قدر ہے خلاصہ مری کہانی کا کہ بن کے ٹوٹ گیا اک حباب پانی کا ملا ہے ساقی تو روشن ہوا ہے یہ مجھ پر کہ حذف تھا کوئی ٹکڑا مری کہانی کا مجھے بھی چہرے پہ رونق دکھائی دیتی ہے یہ معجزہ ہے طبیبوں کی خوش بیانی کا ہے دل میں ایک ہی خواہش وہ ڈوب جانے کی کوئی شباب کوئی حسن ہے روانی ...
اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے اپنا سمجھ کے زہر پلا دیجئے مجھے اٹھے نہ تاکہ آپ کی جانب نظر کوئی جتنی بھی تہمتیں ہیں لگا دیجئے مجھے کیوں آپ کی خوشی کو مرا غم کرے اداس اک تلخ حادثہ ہوں بھلا دیجئے مجھے صدق و صفا نے مجھ کو کیا ہے بہت خراب مکر و ریا ضرور سکھا دیجئے مجھے میں آپ کے ...
منقلب صورت حالات بھی ہو جاتی ہے دن بھلے ہوں تو کرامات بھی ہو جاتی ہے حسن کو آتا ہے جب اپنی ضرورت کا خیال عشق پر لطف کی برسات بھی ہو جاتی ہے دیر و کعبہ ہی اس کا نہ تعلق سمجھو زندگی ہے یہ خرابات بھی ہو جاتی ہے جبر سے طاعت یزداں بھی ہے بار خاطر پیار سے عادت خدمات بھی ہو جاتی ...
آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی میری سرکار بڑی سخت خرابی ہوگی محتسب نے ہی پڑھا ہوگا مقالہ پہلے مری تقریر بہ ہر حال جوابی ہوگی آنکھ اٹھانے سے بھی پہلے ہی وہ ہوں گے غائب کیا خبر تھی کہ انہیں اتنی شتابی ہوگی ہر محبت کو سمجھتا ہے وہ ناول کا ورق اس پری زاد کی تعلیم کتابی ہوگی شیخ جی ...