قومی زبان

انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے

انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے بے وفا ہونے سے پہلے سوچ لے بندگی مجھ کو تو راس آ جائے گی تو خدا ہونے سے پہلے سوچ لے کاسۂ ہمت نہ خالی ہو کبھی تو گدا ہونے سے پہلے سوچ لے یہ محبت عمر بھر کا روگ ہے مبتلا ہونے سے پہلے سوچ لے بچ رہے کچھ تیرے میرے درمیاں فاصلہ ہونے سے پہلے سوچ لے زندگی اک ...

مزید پڑھیے

ایسی کہاں اتری ہے کوئی شام مری جان

ایسی کہاں اتری ہے کوئی شام مری جان اشجار پہ لکھا ہے ترا نام مری جان کٹتے ہیں کہاں ایک سے دن رات یہ موسم ہے زیست بھی اک حسرت ناکام مری جان کھیتوں میں کہاں اگتے ہیں لفظوں کے مراسم حرفوں کی تجارت میں گئے نام مری جان مجھ کو نہیں پہنچی تری خوشبو تو کروں کیا بے شک تو رہے لالہ و گلفام ...

مزید پڑھیے

کبھی پکار کے دیکھا کبھی بلائے تو

کبھی پکار کے دیکھا کبھی بلائے تو حدود ذات سے آگے نکل کے آئے تو پلا رہا ہے نگاہوں کو تیرگی کا لہو فصیل جاں پہ وہ کوئی دیا جلائے تو سجائے رکھوں گی اپنے گمان کی دنیا مرے یقین کی منزل پہ کوئی آئے تو یہ آنکھیں نیند کو ترسی ہوئی ہیں مدت سے وہ خواب زار شبستاں کوئی دکھائے تو غرور عشق ...

مزید پڑھیے

دستک

درد کے گہرے سناٹے میں قریۂ جاں کے بند کواڑ پہ دستک دے کر ہلکی سی سرگوشی کر کے کوئی تو پوچھے اب تک زندہ رہنے والو ہجر کے گہرے سناٹوں میں اپنے آپ سے بچھڑے لوگو کیسے زندہ رہ لیتے ہو

مزید پڑھیے

تمہاری یاد کا سایا نہ ہوگا

تمہاری یاد کا سایا نہ ہوگا کوئی بہتا ہوا دریا نہ ہوگا یہ منظر بھی نظر آئے گا اک دن بدن ہوگا کوئی چہرا نہ ہوگا زمانے ہوں گے میری دسترس میں تمہارے قرب کا لمحہ نہ ہوگا سمندر کی طرح وہ شانت لیکن لہو اس آنکھ سے ٹپکا نہ ہوگا فقط سناٹے میں چیخا کریں گے مکاں ہوں گے کوئی بستا نہ ہوگا

مزید پڑھیے

جو بات اچھی نہیں لگتی اصولاً

جو بات اچھی نہیں لگتی اصولاً اسے ہم چھوڑ دیتے ہیں یقیناً نکالو دودھ کی نہریں یقیناً مگر ملتی ہے شیریں اتفاقاً زباں لکنت زدہ بد نیتوں کی ہم اپنی بات کہہ دیتے ہیں فوراً دلوں کے بیچ اک دیوار سی ہے ملیں بھی ہم تو اب ملتے ہیں رسماً بدن اس کا ہے خوشبو چاند نغمہ تبھی تو ہم جھکے ہیں ...

مزید پڑھیے

حسن غزل بد حالی میں

حسن غزل بد حالی میں سارے دیواں نالی میں کون سنے گا میری بات سب تو مگن ہیں تالی میں ادنیٰ اعلیٰ سب خوش ہیں گن ہیں جناب عالی میں پھول کھلے ہیں ہونٹوں پر خوشبو جسم کی ڈالی میں لمبی زلفیں سانولا جسم حسن تو ہے بنگالی میں غزلیں ہوتی ہیں عاصمؔ میں جب ڈوبوں پیالی میں

مزید پڑھیے

خیال یار کا جلوہ یہاں بھی تھا وہاں بھی تھا

خیال یار کا جلوہ یہاں بھی تھا وہاں بھی تھا زمیں پر پاؤں تھے میرے نظر میں آسماں بھی تھا دیے روشن تھے ہر جانب اندھیرا تھا مگر دل میں بہت تنہا تھا میں لیکن شریک کارواں بھی تھا چنے تنکے بہت میں نے بنایا آشیاں اپنا ازل سے اک مسافر ہوں مجھے اس کا گماں بھی تھا ادھر جانا بھی تھا لازم ...

مزید پڑھیے

مری یادیں بھلا تم کس طرح دل سے مٹاؤ گے

مری یادیں بھلا تم کس طرح دل سے مٹاؤ گے بھلا کر تو ذرا دیکھو مجھے کیسے بھلاؤ گے محبت کرنے والے درد میں تنہا نہیں ہوتے جو روٹھو گے کبھی مجھ سے تو اپنا دل دکھاؤ گے کرو گے یاد تم گزرے زمانوں کی سبھی باتیں کبھی اترا کے ہنس دو گے کبھی آنسو بہاؤ گے گزر جاتے ہیں جو لمحے کبھی واپس نہیں ...

مزید پڑھیے

تھی یاد کس دیار کی جو آ کے یوں رلا گئی

تھی یاد کس دیار کی جو آ کے یوں رلا گئی بس ایک پل میں جیسے زندگی بھی ڈگمگا گئی گماں تھا یہ کہ دب گئیں وہ حسرتوں کی بجلیاں یہ کون سی نئی چمک بجھے دیے جلا گئی گرائیں شاخ شاخ سے خزاں نے پھول پتیاں اڑے جو بیج ہر طرف تو پھر بہار آ گئی کھلا نگاہ یار کا جو مے کدہ تو یوں لگا کہ پیاس ایک عمر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5844 سے 6203