قومی زبان

ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں

ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں مرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے تو سنگ و خشت بھی اذن خطاب مانگتے ہیں کوئی ہوا سے یہ کہہ دے ذرا ٹھہر جائے کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں عجیب ہے یہ تماشا کہ میرے عہد کے لوگ سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ...

مزید پڑھیے

دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی

دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی بدل گئے مرے موسم ترے بدلتے ہی سمٹتے پھیلتے سائے کلام کرنے لگے لہو میں خوف کا پہلا چراغ جلتے ہی کوئی ملول سی خوشبو فضا میں تیر گئی کسی خیال کے حرف و صدا میں ڈھلتے ہی وہ دوست تھا کہ عدو میں نے صرف یہ جانا کہ وہ زمین پہ آیا مرے سنبھلتے ہی بدن ...

مزید پڑھیے

ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں

ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں ایسے مفلس ہیں کہ اسباب سے ڈر جاتے ہیں خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں رات کے پچھلے پہر نیند میں چلتے ہوئے لوگ خون ہوتے ہوئے مہتاب سے ڈر جاتے ہیں شاد رہتے ہیں اسی جامۂ عریانی میں ہاں مگر اطلس و کمخواب سے ...

مزید پڑھیے

جب کوئی تیر حوادث کی کماں سے آیا

جب کوئی تیر حوادث کی کماں سے آیا نغمہ اک اور مرے مطرب جاں سے آیا ایک نظارے نے میرے لیے آنکھیں بھیجیں دل کسی کارگہہ شیشہ گراں سے آیا جب بھی اس دل نے ترے قرب کی دولت چاہی ایک سایہ سا نکل کر رگ جاں سے آیا میں نہ ڈرتا تھا عناصر کی ستم کوشی سے خوف آیا تو بس اک عمر رواں سے آیا کیا کروں ...

مزید پڑھیے

جس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے

جس کو ہم سمجھتے تھے عمر بھر کا رشتہ ہے اب وہ رابطہ جیسے رہ گزر کا رشتہ ہے صبح تک یہ موجیں بھی تھک کے سو ہی جائیں گی چاند کا سمندر ہے رات بھر کا رشتہ ہے یہ جو اتنے سارے دل ساتھ ہی دھڑکتے ہیں کچھ قلم کا ناطہ ہے کچھ ہنر کا رشتہ ہے تیز ہیں تو کیا غم ہے تند ہیں تو شکوہ کیا ان ہواؤں سے ...

مزید پڑھیے

تھم کے برسو نا یہاں کچے مکانوں نے ابھی (ردیف .. ے)

تھم کے برسو نا یہاں کچے مکانوں نے ابھی ساز ٹپ ٹپ کے نہ گانے کی قسم کھائی ہے تو بھی عاشق ہے سمجھتا ہوں میں آنسو تیرے شوخ چنچل سی ہوا کھینچ تمہیں لائی ہے تم سمجھتے ہو زلیخا کی محبت کا جنوں کیسے خالق کو وہ عاشق کی ادا بھائی ہے تم کو معلوم ہے کیوں مصر کے بازاروں میں سیل یہ حسن کی خود ...

مزید پڑھیے

انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے

انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے بے وفا ہونے سے پہلے سوچ لے بندگی مجھ کو تو راس آ جائے گی تو خدا ہونے سے پہلے سوچ لے کاسۂ ہمت نہ خالی ہو کبھی تو گدا ہونے سے پہلے سوچ لے یہ محبت عمر بھر کا روگ ہے مبتلا ہونے سے پہلے سوچ لے بچ رہے کچھ تیرے میرے درمیاں فاصلہ ہونے سے پہلے سوچ لے زندگی اک ...

مزید پڑھیے

اس کی جھیل آنکھوں سے دور تک میں دیکھوں گی

اس کی جھیل آنکھوں سے دور تک میں دیکھوں گی بے قرار تنہائی اشک بار خاموشی آج تیرے پہلو میں میں نے پھر سے دیکھی ہے اک جوان رعنائی دل فگار خاموشی اپنے قیمتی لمحے مجھ پہ وارنے والے تری قربتوں میں تھی بے شمار خاموشی ہم سفر نے رکھا تھا بھرم اپنے ہونے کا دل فریب سرگوشی بے قرار ...

مزید پڑھیے

پھر کسی حادثے کا در کھولے

پھر کسی حادثے کا در کھولے پہلے پرواز کو وہ پر کھولے جیسے جنگل میں رات اتری ہو یوں اداسی ملی ہے سر کھولے پہلے تقدیر سے نمٹ آئے پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے منزلوں نے وقار بخشا ہے راستے چل پڑے سفر کھولے جو سمجھتا ہے زندگی کے رموز موت کا در وہ بے خطر کھولے ہے کنولؔ خوف رائیگانی ...

مزید پڑھیے

کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے

کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے جو لمحہ اس ذات کے اندر رک جاتا ہے سورج دن بھر زہر اگلتا رہتا ہے چاند کا زعم بھی رات کے اندر رک جاتا ہے پہلے سانس جما دیتا ہے ہونٹوں پر پھر وہ اپنی گھات کے اندر رک جاتا ہے نکل نہیں سکتا دھرتی کا بنجر پن جو قطرہ برسات کے اندر رک جاتا ہے حرف کا دیپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5843 سے 6203