قومی زبان

تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں

تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں تصویر کے ہونٹوں پہ جو بوسوں کے نشاں ہیں آنکھوں میں تر و تازہ ہیں جس عہد کے منظر ہم لوگ اسی عہد گزشتہ میں جواں ہیں نیلام ہمارا بھی اسی شرط پہ ہوگا ہم رونق بازار ہیں جیسے ہیں جہاں ہیں دل تھا کہ کسی ساعت پر خوں میں ہوا سرد آنکھیں ہیں کہ اب تک ...

مزید پڑھیے

ہر طرف شور فغاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

ہر طرف شور فغاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں قافلہ ہے کہ رواں ہے کوئی سنتا ہی نہیں اک صدا پوچھتی رہتی ہے کوئی زندہ ہے میں کہے جاتا ہوں ہاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں میں جو چپ تھا ہمہ تن گوش تھی بستی ساری اب مرے منہ میں زباں ہے کوئی سنتا ہی نہیں دیکھنے والے تو اس شہر میں یوں بھی کم تھے اب ...

مزید پڑھیے

گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے سفر تمام ہوا اور ہم سفر بھی گئے اسی نظر کے لئے بے قرار رہتے تھے اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے یہ سیل اشک ہے برباد کر کے چھوڑے گا یہ گھر نہ پاؤ گے دریا اگر اتر بھی ...

مزید پڑھیے

اہل جنوں تھے فصل بہاراں کے سر گئے

اہل جنوں تھے فصل بہاراں کے سر گئے ہم لوگ خواہشوں کی حرارت سے مر گئے ہجر و وصال ایک ہی لمحے کی بات تھی وہ پل گزر گیا تو زمانے گزر گئے اے تیرگئ شہر تمنا بتا بھی دے وہ چاند کیا ہوئے وہ ستارے کدھر گئے وحشت کے اس نگر میں وہ قوس قزح سے لوگ جانے کہاں سے آئے تھے جانے کدھر گئے خوشبو اسیر ...

مزید پڑھیے

میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا

میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا وہ ایک شعلے کی صورت مرے نفس میں رہا نظر اسیر اسی چشم مے فشاں کی رہی مرا بدن بھی مری روح کے قفس میں رہا چمن سے ٹوٹ گیا برگ زرد کا رشتہ نہ آب و گل میں سمایا نہ خار و خس میں رہا تمام عمر کی بے تابیوں کا حاصل تھا وہ ایک لمحہ جو صدیوں کے پیش و پس میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5842 سے 6203