قومی زبان

بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا

بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا دل میں اک گوشۂ احساس زیاں ہی رکھنا پھر اسی رہ سے ملے گی نئے ابلاغ کو سمت شعر کو درد کا اسلوب بیاں ہی رکھنا آہ منظر کو یہ فرفاتی ہوئی بے سفری ساتھ پگھلے ہوئے رستوں کے نشاں ہی رکھنا کہہ نہ سکنا بھی بہت کچھ ہے ریاضت ہو اگر زخم ہونٹوں کے سر عجز ...

مزید پڑھیے

درخت روح کے جھومے پرند گانے لگے

درخت روح کے جھومے پرند گانے لگے ہمیں ادھر کے مناظر نظر بھی آنے لگے خوش آمدید کا منظر غروب شام میں تھا در شفق پہ فرشتے سے مسکرانے لگے فراق و وصل کے مابین یہ سماں جیسے اداس لے میں کوئی حمد گنگنانے لگے میں ایک ساعت بے خود میں چھو گیا تھا جسے پھر اس کو لفظ تک آتے ہوئے زمانے لگے خبر ...

مزید پڑھیے

ازدواجی زندگی بھی اور تجارت بھی ادب بھی

ازدواجی زندگی بھی اور تجارت بھی ادب بھی کتنا کار آمد ہے سب کچھ اور کیسا بے سبب بھی جس کے ایک اک حرف شیریں کا اثر ہے زہر آگیں کیا حکایت لکھ گئے میرے لبوں پر اس کے لب بھی عمر بھر تار نفس اک ہجر ہی کا سلسلہ ہے وہ نہ مل پائے اگر تو اور اگر مل جائے تب بھی لوگ اچھے زندگی پیاری ہے دنیا ...

مزید پڑھیے

ذکر ہم سے بے طلب کا کیا طلب گاری کے دن

ذکر ہم سے بے طلب کا کیا طلب گاری کے دن تم ہمیں سوچو گے اک دن خود سے بے زاری کے دن منہمک مصروف ایک اک کام نمٹاتے ہوئے صاف سے روشن سے یہ چلنے کی تیاری کے دن روز اک بجھتی ہوئی سیلن بھرے کمرے کی شام کھڑکیوں میں روز مرجھاتے یہ بیماری کے دن نم نشیلی ساعتوں کی سرد زہریلی سی رات خواب ...

مزید پڑھیے

بجا کہ لطف ہے دنیا میں شور کرنے کا

بجا کہ لطف ہے دنیا میں شور کرنے کا نشہ کچھ اور ہے گم نام موت مرنے کا عبث ہے زعم سمندر کے پار اترنے کا یہ سلسلہ ہے فقط ڈوبنے ابھرنے کا عجب سماں تھا کہ تذلیل بھی تھی کیف انگیز وہ میرا وقت تری سیڑھیاں اترنے کا کفن میں پاؤں ہلیں پیرہن میں لاش چلے ہمارا عہد نہ جینے کا ہے نہ مرنے ...

مزید پڑھیے

مزاج سہل طلب اپنا رخصتیں مانگے

مزاج سہل طلب اپنا رخصتیں مانگے ثبات فن مگر اے دل عزیمتیں مانگے افق پہ حسن ادا کے طلوع مہر خیال فضائے شعر سحر کی لطافتیں مانگے مصر ہے عقل کہ منطق میں آئے عقدۂ جاں قدم قدم پہ مگر دل بشارتیں مانگے نئی اڑان کو کم ہیں یہ ذوق کے شہپر نئی ہواؤں کا ہر خم ذہانتیں مانگے شعور کے قد و ...

مزید پڑھیے

خراب درد ہوئے غم پرستیوں میں رہے

خراب درد ہوئے غم پرستیوں میں رہے خوشی کی کھوج بہانہ تھی مستیوں میں رہے ہوا حصول زر فن بڑی کشاکش سے ہم ایک عمر عجب تنگ دستیوں میں رہے ہر اک سے جھک کے ملے یوں کہ سرفراز ہوئے چٹان جیسے خمیدہ سی پستیوں میں رہے چبھن کی ناؤ میں پر کی خلیج رشتوں کی عجب مذاق سے ہم گھر گرہستیوں میں ...

مزید پڑھیے

موت سے آگے سوچ کے آنا پھر جی لینا

موت سے آگے سوچ کے آنا پھر جی لینا چھوٹی چھوٹی باتوں میں دلچسپی لینا نرم نظر سے چھونا منظر کی سختی کو تند ہوا سے چہرے کی شادابی لینا جذبوں کے دو گھونٹ عقیدوں کے دو لقمے آگے سوچ کا صحرا ہے کچھ کھا پی لینا مہنگے سستے دام ہزاروں نام یہ جیون سوچ سمجھ کر چیز کوئی اچھی سی لینا آوازوں ...

مزید پڑھیے

سوال کا جواب تھا جواب کے سوال میں

سوال کا جواب تھا جواب کے سوال میں گرفت شور سے چھٹے تو خامشی کے جال میں برا ہو آئینے ترا میں کون ہوں نہ کھل سکا مجھی کو پیش کر دیا گیا مری مثال میں بقا طلب تھی زندگی شفا طلب تھا زخم دل فنا مگر لکھی گئی ہے باب اندمال میں کہیں ثبات ہے نہیں یہ کائنات ہے نہیں مگر امید دید میں تصور ...

مزید پڑھیے

ہر اک دھڑکن عجب آہٹ

ہر اک دھڑکن عجب آہٹ پرندوں جیسی گھبراہٹ مرے لہجے میں شیرینی مری آنکھوں میں کڑواہٹ مری پہچان ہے شاید مرے حصے کی اکتاہٹ سمٹتا شعر ہیئت میں بدن کی سی یہ گدراہٹ مصر میں فن مرا ضد پر یہ بالک ہٹ وہ تریاہٹ اجالے ڈس نہ لیں اس کو بچا رکھو یہ دھندلاہٹ لہو کی سیڑھیوں پر ہے کوئی بڑھتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5837 سے 6203