قومی زبان

یوں بھی دل احباب کے ہم نے گاہے گاہے رکھے تھے

یوں بھی دل احباب کے ہم نے گاہے گاہے رکھے تھے اپنے زخم نظر پر خوش فہمی کے پھاہے رکھے تھے ہم نے تضاد دہر کو سمجھا دوراہے ترتیب دیئے اور برتنے نکلے تو دیکھا سہ راہے رکھے تھے رقص کدہ ہو بزم سخن ہو کوئی کار گہہ فن ہو زردوزوں نے اپنی ماتحتی میں جلاہے رکھے تھے محتسبوں کی خاطر بھی اپنے ...

مزید پڑھیے

گھل سی گئی روح میں اداسی

گھل سی گئی روح میں اداسی راس آئی نہ ہم کو خود شناسی ہر موڑ پہ بے کشش کھڑی ہے اک خوش بدنی و کم لباسی لالچ میں پروں کے پیر چھوٹے اب رخت سفر ہے بے اساسی نفس مضموں اسی میں ہے گو مضمون نفس ہے اقتباسی آئی بھی تو کیا نگار تعبیر اوڑھے ہوئے خواب کی ردا سی جادو سا الم کا کر گئی سازؔ ان ...

مزید پڑھیے

جیسے کوئی دائرہ تکمیل پر ہے

جیسے کوئی دائرہ تکمیل پر ہے ان دنوں مجھ پر گزشتہ کا اثر ہے زندگی کی بند سیپی کھل رہی ہے اور اس میں عہد طفلی کا گہر ہے دل ہے راز و رمز کی دنیا میں شاداں عقل کو ہر آن تشویش خبر ہے اک توقف زار میں گم ہے تسلسل لمحۂ موجود گویا عمر بھر ہے ذہن میں روزن انوکھے کھل رہے ہیں جن سے ان سوچی ...

مزید پڑھیے

ظرف ہے کس میں کہ وہ سارا جہاں لے کر چلے

ظرف ہے کس میں کہ وہ سارا جہاں لے کر چلے ہم تو دنیا سے فقط اک درد جاں لے کر چلے آدمی کو چاہئے توفیق چلنے کی فقط کچھ نہیں تو گزرے وقتوں کا دھواں لے کر چلے جب بہاریں بے وفا نکلیں تو کس امید پر انتظار گل کی حسرت باغباں لے کر چلے کب مقدر کا کہاں کیسا کوئی منظر بنے ہم ہتھیلی پر لکیروں ...

مزید پڑھیے

آ کہ چاہت وصل کی پھر سے بڑی پر زور ہے

آ کہ چاہت وصل کی پھر سے بڑی پر زور ہے آ کہ دل میں حسرتوں نے پھر مچایا شور ہے آ کہ اب تو دور تک خوشبو کی چادر بچھ گئی آ کہ رخ باد صبا کا اپنے گھر کی اور ہے آ کہ پھر سے چاند پر دل کش جوانی آ گئی آ کہ پھر سے آج کل انگڑائیوں کا زور ہے آ کہ کلیوں کے چٹخنے کا وہ موسم آ گیا آ کہ دل میں ...

مزید پڑھیے

ہو ستم کیسا بھی اب حالات کی شمشیر کا

ہو ستم کیسا بھی اب حالات کی شمشیر کا وقت بدلے گا کسی دن رخ مری تصویر کا جان لیوا ہے تمہارا بے نیازی کا چلن حشر دیکھے ہی بنے گا اب دل دلگیر کا بیٹھتی ہے کون سی کروٹ یہ بازی عشق کی گردشوں کے ہاتھ میں ہے فیصلہ تقدیر کا کون باندھے گا مری بکھری ہوئی امید کو کھل رہا ہے اب تو ہر حلقہ ...

مزید پڑھیے

جب کبھی تم میری جانب آؤ گے

جب کبھی تم میری جانب آؤ گے مجھ کو اپنا منتظر ہی پاؤ گے دیکھنا کیسے پگھلتے جاؤ گے جب مری آغوش میں تم آؤ گے گیسوئے پیچاں میں مجھ کو باندھ کر تم بھی اب بچ کر کہاں تک جاؤ گے حشر کے دن کی تو چھوڑو حشر پر عمر بھر یہ خوف کیوں کر کھاؤ گے وقت عازمؔ جا کے پھر آتا نہیں وقت کو واپس کہاں سے ...

مزید پڑھیے

سبو اٹھا مرے ساقی کہ رات جاتی ہے

سبو اٹھا مرے ساقی کہ رات جاتی ہے نظر ملا مرے ساقی کہ رات جاتی ہے کہ تو منائے مجھے اس لئے میں روٹھا ہوں مجھے منا مرے ساقی کہ رات جاتی ہے ہے میری جان مری جاں ترے تبسم میں تو مسکرا مرے ساقی کہ رات جاتی ہے شب وصال کی خوشبو فضا کی رنگینی کہیں سے لا مرے ساقی کہ رات جاتی ہے کسی بہار کا ...

مزید پڑھیے

سلسلے سب رک گئے دل ہاتھ سے جاتا رہا

سلسلے سب رک گئے دل ہاتھ سے جاتا رہا ہجر کی دہلیز پر اک درد لہراتا رہا قلب کا دامن جنوں میں بھی نہ چھوڑا عقل نے دھڑکنوں کی چاپ سن کر مجھ کو خوف آتا رہا مسئلہ اس کی انا کا تھا کہ شہرت کی طلب اس کا ہر احسان مجھ پر نیکیاں ڈھاتا رہا میں رہا بے خواب خوابوں کے طلسمی جال میں وہ مری ...

مزید پڑھیے

کدھر کا تھا کدھر کا ہو گیا ہوں

کدھر کا تھا کدھر کا ہو گیا ہوں مسافر کس سفر کا ہو گیا ہوں خدا اس کو سدا پر نور رکھے میں تارا جس نظر کا ہو گیا ہوں دھرے جائیں گے سب الزام مجھ پر میں حصہ ہر خبر کا ہو گیا ہوں مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں تری نظروں کے اک فرمان ہی سے میں قیدی عمر بھر کا ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5838 سے 6203