بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیا
بھول کر پہلوئے امید میں آیا نہ گیا جو پتا ہم کو بتایا تھا وہ پایا نہ گیا قلم انداز فنا ہوں مری وقعت دیکھو میں ہوں وہ حرف مکرر جو مٹایا نہ گیا اس تکلف پہ کہاں لطف ہم آغوشی کا آپ سے پہلوئے تصویر میں آیا نہ گیا وہ ادا اور تھی یہ اور ہے پھر اور سہی بے نیازی سے کوئی رنگ جمایا نہ ...