قومی زبان

سدا سہاگن

انگ بھون کا بادل گرجے قطرہ قطرہ جیون برسے دید آنگن میں چھڑے اجالا جسم سمندر پھر سے مہکے نٹ کھٹ ناری سائے نگل جا سا رے گا ما پا دھا نی سا گلیاں کوچے سونے رستے روشن ہوں گے آنکھیں ساری ابل پڑیں گی پاؤں میں جھانجھر باندھ لے پھر سے سا نی دھا پا ما گا رے سا

مزید پڑھیے

سنگسار ہونے والی لڑکی کی آخری الفاظ

جس نے مجھ کو لفظوں کے ایک ڈھیر پہ لا کے کھڑا کیا تھا جس نے مجھ سے پیار کیا تھا جس نے کہا تھا تو اچھی ہے جس نے کہا تھا تو رانی ہے جس نے کہا تھا مر جاؤں گا جس نے کہا تھا جس نے جانے کیا کیا کہا تھا پہلا پتھر وہ تھا سہیلی

مزید پڑھیے

روشنی

سڑک کنارے بیٹھ کے اکثر میں یہ سوچا کرتا تھا گھٹتے بڑھتے ٹیڑھے ترچھے لاکھوں سائے کس کا پیچھا کرتے ہیں عمر کنارے اب میں اپنا سندر سایہ ڈھونڈ رہا ہوں

مزید پڑھیے

دعا

گہری رات میں سائے سائے زرد گھٹا ساکت و جامد گہرا نیلا جنگل سرد ہوا میں ہاتھ بڑھا سرد ہوا سسکیاں خوشبو الھڑ جسم دوراہے سپنا خون بہا قہر و غضب کی گرم ہوا میرے خدا الھڑ جسم کا خون بہا خون بہا ہاتھوں کو مایوس نہ کر

مزید پڑھیے

یک جان دو قالب

دونوں ایک ہی ذات میں گم تھے باتیں کرتے ہنستے کھیلتے چلتے چلتے اک دوجے کو دیکھ بھی لیتے آب و ہوا اور مٹی ایک ایک اٹھان دونوں اپنے وقتوں کی آواز بنے تھے دھن دریچے چہرہ مہرہ ایک تھا ان کا ایک سی رنگت ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے پھر بھی دونوں الگ الگ تھے

مزید پڑھیے

ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھو

ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھو دل پر جو لگی چوٹ وہ تاثیر سے پوچھو آئین وفا طوق گلو گیر سے پوچھو تمکین جنوں پاؤں کی زنجیر سے پوچھو ناموس محبت کی قیامت کو خبر کیا تم میری تباہی مری تقدیر سے پوچھو لو سحر نظر مدعی غارت دل ہے کیا پوچھتے ہو شوخیٔ تقریر سے پوچھو مانا کہ مجھے زہر ...

مزید پڑھیے

پھر حشر کے پردہ میں تقدیر نظر آئی

پھر حشر کے پردہ میں تقدیر نظر آئی آئینۂ وحشت میں تصویر نظر آئی جب قید سے ہم چھوٹے تدبیر نظر آئی جب پائے جنوں ٹوٹے زنجیر نظر آئی اے مرگ رگ و پے کو دے مژدۂ سیرابی زہرابۂ حرماں میں تاثیر نظر آئی ہر حرف عمل نامہ کس شان سے بول اٹھا تحریر کے پردے میں تقریر نظر آئی طرف جگر و دل میں ...

مزید پڑھیے

دل میں رہ کر چھپا کرے کوئی

دل میں رہ کر چھپا کرے کوئی آنکھ بن کر حیا کرے کوئی ہم نے مانا وفا کرے کوئی چارۂ یاس کیا کرے کوئی اس کی شوخی پکارے کہتی ہے کھل گئے ہم چھپا کرے کوئی تری محفل سے فتنہ گر کب تک درد بن کر اٹھا کرے کوئی ناز ہے اپنی بے نیازی پر وقف محنت رہا کرے کوئی صبر ایوب سے غرض کس کو شکر نعمت ادا ...

مزید پڑھیے

پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرا

پھر رگ شعلۂ جاں سوز میں نشتر گزرا نالہ کیوں آبلۂ دل سے الجھ کر گزرا میں ہوں دل دارئ افسون وفا پر نازاں جو رقیبوں پہ نہ گزرا تھا وہ مجھ پر گزرا کیا محیط مئے بے رنگ میں طوفاں آیا جوش رنگ انجمن ناز سے باہر گزرا تشنۂ حسرت جاوید ہوں میں کیا جانوں کیوں گلے سے مرے تلخابۂ کوثر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا

ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتا آئینہ سکندر کے مقابل نہیں ہوتا بے لطف ہے وہ کام مصیبت نہیں جس میں بے قدر ہے وہ عقدہ جو مشکل نہیں ہوتا تم وصل میں دیوانگئ شوق سے ڈرنا میں کشمکش ناز سے بیدل نہیں ہوتا کس کام کا اے قیس ترا چاک گریباں لیلیٰ کا اگر پردۂ محمل نہیں ہوتا میں خرمن امید ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5835 سے 6203