کھلی جب آنکھ تو دیکھا کہ دنیا سر پہ رکھی ہے
کھلی جب آنکھ تو دیکھا کہ دنیا سر پہ رکھی ہے خمار ہوش میں سمجھے تھے ہم ٹھوکر پہ رکھی ہے تعارف کے تلے پہچان غائب ہو گئی اپنی عجب جادو کی ٹوپی ہم نے اپنے سر پہ رکھی ہے مرے ہونے کا یہ تصدیق نامہ کس نے لکھا ہے گواہی کس کی میری ذات کے محضر پہ رکھی ہے اچانک گر وہ بے آمد ہی کمرے میں بر ...