قومی زبان

کھلی جب آنکھ تو دیکھا کہ دنیا سر پہ رکھی ہے

کھلی جب آنکھ تو دیکھا کہ دنیا سر پہ رکھی ہے خمار ہوش میں سمجھے تھے ہم ٹھوکر پہ رکھی ہے تعارف کے تلے پہچان غائب ہو گئی اپنی عجب جادو کی ٹوپی ہم نے اپنے سر پہ رکھی ہے مرے ہونے کا یہ تصدیق نامہ کس نے لکھا ہے گواہی کس کی میری ذات کے محضر پہ رکھی ہے اچانک گر وہ بے آمد ہی کمرے میں بر ...

مزید پڑھیے

طبع حساس مری خار ہوئی جاتی ہے

طبع حساس مری خار ہوئی جاتی ہے بے حسی عشرت کردار ہوئی جاتی ہے یہ خموشی یہ گھلاوٹ یہ بچھڑتے ہوئے رنگ شام اک درد بھرا پیار ہوئی جاتی ہے اور باریک کئے جاتا ہوں میں موئے قلم تیز تر سوزن اظہار ہوئی جاتی ہے کچھ تو سچ بول کہ دل سے یہ گراں بوجھ ہٹے زندگی جھوٹ کا طومار ہوئی جاتی ہے جادۂ ...

مزید پڑھیے

باطن سے صدف کے در نایاب کھلیں گے

باطن سے صدف کے در نایاب کھلیں گے لیکن یہ مناظر بھی تہہ آب کھلیں گے دیوار نہیں پردۂ فن بند قبا ہے اک جنبش انگشت کہ مہتاب کھلیں گے کچھ نوک پلک اور تحیر کی سنور جائے ہر جنبش مژگاں میں نئے باب کھلیں گے آئینہ در آئینہ کھلے گا چمن عکس تعبیر کے در خواب پس خواب کھلیں گے ہو جائیں گے جب ...

مزید پڑھیے

بجا کہ پابند کوچۂ ناز ہم ہوئے تھے

بجا کہ پابند کوچۂ ناز ہم ہوئے تھے یہیں سے پر لے کے محو پرواز ہم ہوئے تھے سخن کا آغاز پہلے بوسے کی تازگی تھا ازل ربا ساعتوں کے ہم راز ہم ہوئے تھے یہاں جو اک گونج دائرے سی بنا رہی ہے اسی خموشی میں سنگ آواز ہم ہوئے تھے رواں دواں انکشاف در انکشاف تھے ہم جو مڑ کے دیکھا تو صیغۂ راز ہم ...

مزید پڑھیے

لمحۂ تخلیق بخشا اس نے مجھ کو بھیک میں

لمحۂ تخلیق بخشا اس نے مجھ کو بھیک میں میں نے لوٹایا اسے اک نظم کی تکنیک میں بام و در کی روشنی پھر کیوں بلاتی ہے مجھے میں نکل آیا تھا گھر سے اک شب تاریک میں فیصلے محفوظ ہیں اور فاصلے ہیں برقرار گرد اڑتی ہے یقیں کی وادیٔ تشکیک میں سی کے پھیلا دوں بساط فن پہ میں دامان چاک ڈور تو ...

مزید پڑھیے

نانی اماں کی وفات پر ایک نظم

آج بچپن کو دفن کر آئے موہنی جھریاں سبک آنکھیں مہرباں شفقتوں سے پر چہرہ تھپکیاں دیتے ہاتھ نرم آغوش چاہتیں دیکھ بھال پیار دلار سارے کنبے کی فکر سب کا خیال رابطے رشتے داریاں ناطے خاطریں وضع داریاں مہماں مرتبے حیثیت حساب نساب نظم و ترتیب گھر کے اخراجات موت میت بیاہ پیدائش تعزیت ...

مزید پڑھیے

بمبئی کی ایک پرانی شام

شام ڈھلے چرچ گیٹ کے اس طرف بیکھا بہرام کا کنواں کراس میدان کے فٹ پاتھ پر بنے برسوں پرانے بینچوں پر بیٹھے ہوئے برسوں پرانے پارسی سفید لانبا کوٹ سیاہ قدیم کلاہ خاموش اور گمبھیر کھوئی کھوئی نظریں جمائے جیسے پرانے بمبئی کی روح آ نکلی ہو آج کی شام کا کوئی منظر دیکھنے

مزید پڑھیے

مرے وجود کے آنگن میں خواب روشن تھا

مرے وجود کے آنگن میں خواب روشن تھا سواد ہجر میں تازہ گلاب روشن تھا کلی کلی کی زباں پر عذاب روشن تھا اے ہم سفر دل خانہ خراب روشن تھا یہ کس حساب میں جھیلی ہے میں نے در بہ دری ترے سوال بدن پر جواب روشن تھا میں اپنی آگ سے کھیلا میں اپنے آپ جلا حصار لمس میں اترا سحاب روشن تھا تو رت ...

مزید پڑھیے

تیرے ہونٹوں پہ نظر باقی ہے

تیرے ہونٹوں پہ نظر باقی ہے کس کے ہونے کی خبر باقی ہے کتنے خوش رنگ بدن دھول ہوئے وقت کی چال مگر باقی ہے آج بھی غم کی سلامی کے لئے دل کا آباد نگر باقی ہے شب کی قندیل اٹھانے والے دیکھ چہروں پہ سحر باقی ہے درد کا چہرہ تھا برباد ہوا دشت میں سوکھا شجر باقی ہے خوں جواں خون سے ہولی ...

مزید پڑھیے

تیرے ہونٹوں پہ سجا ہے کیا ہے

تیرے ہونٹوں پہ سجا ہے کیا ہے تیرا ہر رنگ دعا ہے کیا ہے تیرے آنگن میں لٹا ہے کیا ہے وہ بھی بارش میں کھلا ہے کیا ہے رنگ چڑھتے ہیں اتر جاتے ہیں موسم ہجر پتہ ہے کیا ہے لوگ الفاظ بدل لیتے ہیں اور چہروں پہ لکھا ہے کیا ہے اپنی برباد نگاہی کے ستم ایک در اور کھلا ہے کیا ہے میرے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5834 سے 6203