قومی زبان

منظر شمشان ہو گیا ہے

منظر شمشان ہو گیا ہے دل قبرستان ہو گیا ہے اک سانس کے بعد دوسری سانس جینا بھگتان ہو گیا ہے چھو آئے ہیں ہم یقیں کی سرحد جس وقت گمان ہو گیا ہے سرگوشیوں کی دھمک ہے ہر سو غل کانوں کان ہو گیا ہے وہ لمحہ ہوں میں کہ اک زمانہ میرے دوران ہو گیا ہے سو نوک پلک پلک جھپک میں عقدہ آسان ہو گیا ...

مزید پڑھیے

کبھی نمایاں کبھی تہہ نشیں بھی رہتے ہیں

کبھی نمایاں کبھی تہہ نشیں بھی رہتے ہیں یہیں پہ رہتے ہیں ہم اور نہیں بھی رہتے ہیں بھٹکتی نظروں میں ہیں مرتکز نگاہیں بھی گماں کدوں میں کچھ اہل یقیں بھی رہتے ہیں اگرچہ ہم کو مقدم ہے راہ خدمت خلق جو باز آئے تو اپنے تئیں بھی رہتے ہیں بجا شواہد و منطق قبول بحث و دلیل پہ ہم خطائے نظر ...

مزید پڑھیے

خود کو کیوں جسم کا زندانی کریں

خود کو کیوں جسم کا زندانی کریں فکر کو تخت سلیمانی کریں دیر تک بیٹھ کے سوچیں خود کو آج پھر گھر میں بیابانی کریں اپنے کمرے میں سجائیں آفاق جلسۂ بے سر و سامانی کریں عمر بھر شعر کہیں خوں تھوکیں منتخب راستہ نقصانی کریں خود کے سر مول لیں اظہار کا قرض دوسروں کے لیے آسانی کریں شعر ...

مزید پڑھیے

مرنے کی پختہ خیالی میں جینے کی خامی رہنے دو

مرنے کی پختہ خیالی میں جینے کی خامی رہنے دو یہ استدلالی ترک کرو بس استفہامی رہنے دو یہ تیز روی یہ ترش روئی چلنے کی نہیں ہے دور تلک شبنم نظری شیریں سخنی آسودہ گامی رہنے دو سو دشت سمندر چھانو پر آتے رہو قریۂ دل تک بھی بیرونی ہوا کے جھونکوں میں اک موج مقامی رہنے دو اب طنز پہ کیوں ...

مزید پڑھیے

حسرت دید نہیں ذوق تماشا بھی نہیں

حسرت دید نہیں ذوق تماشا بھی نہیں کاش پتھر ہوں نگاہیں مگر ایسا بھی نہیں جبر دوزخ نہیں فردوس کا نشہ بھی نہیں خوش ہیں اعراف میں ہم اور کوئی کھٹکا بھی نہیں اب کسی حور میں باقی نہیں احساس کشش میرے سر پر کسی آسیب کا سایہ بھی نہیں وہ تو ایسا بھی ہے ویسا بھی ہے کیسا ہے مگر؟ کیا غضب ہے ...

مزید پڑھیے

لفظ کا دریا اترا دشت معانی پھیلا

لفظ کا دریا اترا دشت معانی پھیلا مصرعۂ اولیٰ ہی میں مصرعۂ ثانی پھیلا کہیں چھپا ہوتا ہے دوام کسی لمحے میں یوں تو ہے صدیوں پہ جہان فانی پھیلا دانائی کی دنیا تنگ ہے پیچیدہ ہے یارب کچھ آسانی کر نادانی پھیلا دامن تر ہی میں تو ہے اشکوں کی نمی بھی رہنے دے دھرتی پر یوں ہی پانی ...

مزید پڑھیے

سوال بے امان بن کے رہ گئے

سوال بے امان بن کے رہ گئے جواب امتحان بن کے رہ گئے حد نگاہ تک بلند فلسفے گھروں کے سائبان بن کے رہ گئے جو ذہن، آگہی کی کار گاہ تھے خیال کی دکان بن کے رہ گئے بیاض پر سنبھل سکے نہ تجربے پھسل پڑے بیان بن کے رہ گئے کرن کرن یقین جیسے راستے دھواں دھواں گمان بن کے رہ گئے ضیائیں بانٹتے ...

مزید پڑھیے

بجا کہ پابند کوچۂ ناز ہم ہوئے تھے

بجا کہ پابند کوچۂ ناز ہم ہوئے تھے یہیں سے پر لے کے محو پرواز ہم ہوئے تھے سخن کا آغاز پہلے بوسے کی تازگی تھا ازل ربا ساعتوں کے ہم راز ہم ہوئے تھے جہاں سے معدوم تھی خوش آئندگی سفر کی وہیں سے اک لمحۂ تگ و تاز ہم ہوئے تھے یہاں جو اک گونج دائرے سے بنا رہی ہے اسی خموشی میں سنگ آواز ہم ...

مزید پڑھیے

سامعہ لذت بیان زدہ

سامعہ لذت بیان زدہ ذہن و دل سحر داستان زدہ فکر و تحقیق رہن مہر و سند طالب علم امتحان زدہ ذات کی فکر ہے قیاس آلود زندگی کا یقیں گمان زدہ رات پہچان دے گئی سب کو صبح چہرے ملے نشان زدہ تاک میں ہے نہ کہ تعاقب میں تو شکاری ہے پر مچان زدہ ان کی فکر رسا فلک پیما اپنی سوچیں ہیں آسمان ...

مزید پڑھیے

بد صحبتوں کو چھوڑ شریفوں کے ساتھ گھوم

بد صحبتوں کو چھوڑ شریفوں کے ساتھ گھوم پی خوش نما گلاس سے اچھے لبوں کو چوم لہجے کو شوخ چہرے کو تازہ بنائے رکھ تحسین کی صبا ہو کہ تضحیک کی سموم مے خانۂ مفاد کے مے کش ہیں ہوش مند موقع سے لے لے جام توازن کے ساتھ جھوم برج ''عمل'' میں ''چانس'' کے سورج کی کر گرفت سڑکیں ہیں ''زائچہ'' ترا یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5833 سے 6203