منظر شمشان ہو گیا ہے
منظر شمشان ہو گیا ہے دل قبرستان ہو گیا ہے اک سانس کے بعد دوسری سانس جینا بھگتان ہو گیا ہے چھو آئے ہیں ہم یقیں کی سرحد جس وقت گمان ہو گیا ہے سرگوشیوں کی دھمک ہے ہر سو غل کانوں کان ہو گیا ہے وہ لمحہ ہوں میں کہ اک زمانہ میرے دوران ہو گیا ہے سو نوک پلک پلک جھپک میں عقدہ آسان ہو گیا ...