قومی زبان

بے مصرف بے حاصل دکھ

بے مصرف بے حاصل دکھ جینے کے نا قابل دکھ خواب ستارے پلکوں پر جھلمل جھلمل جھلمل دکھ سکھ ہے اک گمنام افق ناؤ سمندر ساحل دکھ راہ کے سب دکھ جھیل کے جب منزل آئے تو منزل دکھ بوجھ سا میری راتوں پر شعر کی صورت نازل دکھ صحرا صدیاں جیون کی اور یہ پل پل تل تل دکھ مکتی بن کا برگد کرب بھوگ ...

مزید پڑھیے

اک ایما اک اشارہ مر رہا ہے

اک ایما اک اشارہ مر رہا ہے افق پر دل کے تارا مر رہا ہے جو میرے بعد سب پیدا ہوا تھا وہ مجھ سے پہلے سارا مر رہا ہے جسے تھا پھول کر پھٹنا ہی لازم سکڑ کر وہ غبارہ مر رہا ہے کئی موجوں نے دم توڑا تھا جس پر سنا ہے وہ کنارا مر رہا ہے خرد تحلیل صحرا کر رہی ہے جنوں کا استعارہ مر رہا ہے نظر ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے صحرا میں کیا معنی کے سراب دکھانا بھی

لفظوں کے صحرا میں کیا معنی کے سراب دکھانا بھی کوئی سخن سحابی کوئی نغمہ نخلستانہ بھی اک مدت سے ہوش و خبر کی خاموشی رائج ہے یہاں کاش دیار عصر میں گونجے کوئی صدا مستانہ بھی نپے تلے آہنگ پہ کب تک سنبھل سنبھل کر رقص کریں کوئی دھن دیوانی کوئی حرکت مجنونانا بھی شہر سے باہر کہساروں ...

مزید پڑھیے

بند فصیلیں شہر کی توڑیں ذات کی گرہیں کھولیں

بند فصیلیں شہر کی توڑیں ذات کی گرہیں کھولیں برگد نیچے ندی کنارے بیٹھ کہانی بولیں دھیرے دھیرے خود کو نکالیں اس بندھن جکڑن سے سنگ کسی آوارہ منش کے ہولے ہولے ہو لیں فکر کی کس سرشار ڈگر پر شام ڈھلے جی چاہا جھیل میں ٹھہرے اپنے عکس کو چومیں ہونٹ بھگو لیں ہاتھ لگا بیٹھے تو جیون بھر ...

مزید پڑھیے

دکھائی دینے کے اور دکھائی نہ دینے کے درمیان سا کچھ

دکھائی دینے کے اور دکھائی نہ دینے کے درمیان سا کچھ خیال کی لامکانیوں میں ابھر رہا ہے مکان سا کچھ کوئی تعین کوئی تیقن نظر کو محدود رکھ سکے جو فلک سے نیچے بہت ہی نیچے بنا ہے اک سائبان سا کچھ نمو کا طوفاں تھا آفرینش کی زد پہ ہم تم کھڑے تھے دونوں تمہیں بھی کچھ یاد آئے شاید مجھے تو ...

مزید پڑھیے

دور سے شہر فکر سہانا لگتا ہے

دور سے شہر فکر سہانا لگتا ہے داخل ہوتے ہی ہرجانہ لگتا ہے سانس کی ہر آمد لوٹانی پڑتی ہے جینا بھی محصول چکانا لگتا ہے روز پلٹ آتا ہے لہو میں ڈوبا تیر روز فلک پر ایک نشانہ لگتا ہے بیچ نگر دن چڑھتے وحشت بڑھتی ہے شام تلک ہر سو ویرانہ لگتا ہے عمر زمانہ شہر سمندر گھر آکاش ذہن کو ایک ...

مزید پڑھیے

میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا

میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا جسم میں ڈھل کے مری روح رواں میں آنا کھو نہ جانا مری جاں سرحد جاں تک آ کے قرب کا پاس لیے بعد کراں میں آنا میں ترے حسن کو رعنائی معنی دے دوں تو کسی شب مرے انداز بیاں میں آنا ساتھ چلنے کو رفیق رہ دنیا ہیں بہت تو مرے ساتھ مرے اپنے جہاں میں ...

مزید پڑھیے

ہر اک لمحے کی رگ میں درد کا رشتہ دھڑکتا ہے

ہر اک لمحے کی رگ میں درد کا رشتہ دھڑکتا ہے وہاں تارہ لرزتا ہے جو یاں پتہ کھڑکتا ہے ڈھکے رہتے ہیں گہرے ابر میں باطن کے سب منظر کبھی اک لحظۂ ادراک بجلی سا کڑکتا ہے مجھے دیوانہ کر دیتی ہے اپنی موت کی شوخی کوئی مجھ میں رگ اظہار کی صورت پھڑکتا ہے پھر اک دن آگ لگ جاتی ہے جنگل میں ...

مزید پڑھیے

بہت ملول بڑے شادماں گئے ہوئے ہیں

بہت ملول بڑے شادماں گئے ہوئے ہیں ہم آج ہم رہ گم گشتگاں گئے ہوئے ہیں اگرچہ آئے ہوؤں ہی کے ساتھ ہیں ہم بھی مگر گئے ہوؤں کے درمیاں گئے ہوئے ہیں نظر تو آتے ہیں کمروں میں چلتے پھرتے مگر یہ گھر کے لوگ نہ جانے کہاں گئے ہوئے ہیں سحر کو ہم سے ملو گو کہ شب میں بھی ہیں یہیں یہ کوئی ٹھیک ...

مزید پڑھیے

جو کچھ بھی یہ جہاں کی زمانے کی گھر کی ہے

جو کچھ بھی یہ جہاں کی زمانے کی گھر کی ہے روداد ایک لمحۂ وحشت اثر کی ہے پھر دھڑکنوں میں گزرے ہوؤں کے قدم کی چاپ سانسوں میں اک عجیب ہوا پھر ادھر کی ہے پھر دور منظروں سے نظر کو ہے واسطہ پھر ان دنوں فضا میں حکایت سفر کی ہے پہلی کرن کی دھار سے کٹ جائیں گے یہ پر اظہار کی اڑان فقط رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5832 سے 6203