قومی زبان

ظرف

جنت کی خنک ہوا ملی تو ٹھنڈک ہمیں ناگوار گزری منہ پھیر کے ناک بھوں چڑھا کے اک دوجے کو دیکھا اور ہم نے چاہا کہ ذرا سی نار دوزخ مل جائے تو ہاتھ تاپ لیں ہم

مزید پڑھیے

نہ مقامات نہ ترتیب زمانی اپنی

نہ مقامات نہ ترتیب زمانی اپنی اتفاقات پہ مبنی ہے کہانی اپنی جسم سی جاتی ہے تہہ حرف کسی کرب کی موج تھم کے رہ جاتی ہے لفظوں کی روانی اپنی پھیل جاتی تھی سماعت کی زمینوں میں نمی تھی کبھی تر سخنی آب رسانی اپنی لاکھ تم مجھ کو دباؤ میں ابھر آؤں گا سطح ہموار کیے رہتا ہے پانی ...

مزید پڑھیے

کھلے ہیں پھول کی صورت ترے وصال کے دن

کھلے ہیں پھول کی صورت ترے وصال کے دن ترے جمال کی راتیں ترے خیال کے دن نفس نفس نئی تہہ داریوں میں ذات کی کھوج عجب ہیں تیرے بدن تیرے خد و خال کے دن بہ ذوق شعر بہ جبر معاش یکجا ہیں مرے عروج کی راتیں مرے زوال کے دن خرید بیٹھے ہیں دھوکے میں جنس عمر دراز ہمیں دکھائے تھے مکتب نے کچھ ...

مزید پڑھیے

سبق عمر کا یا زمانے کا ہے

سبق عمر کا یا زمانے کا ہے سب آموختہ بھول جانے کا ہے یہ گم ہوتے چہرے یہ منظر یہ گرد سماں رات دن یاں سے جانے کا ہے رکے ہیں کہ ٹک دیکھ لیں سوچ لیں توقف تکلف بہانے کا ہے یہ صدیوں کا محکم منظم سکوت طلسم ایک چٹکی بجانے کا ہے مہک سانس سبزۂ قبر کی کنایہ سا جیسے بلانے کا ہے وضاحت نہ ...

مزید پڑھیے

عبث ہے راز کو پانے کی جستجو کیا ہے (ردیف .. ')

عبث ہے راز کو پانے کی جستجو کیا ہے یہ چاک دل ہے اسے حاجت رفو کیا ہے یہ آئنے ہیں کہ ہم چہرہ لشکروں کی صفیں یہ عکس عکس کوئی صورت عدو کیا ہے مشابہت کے یہ دھوکے مماثلت کے فریب مرا تضاد لیے مجھ سا ہو بہ ہو کیا ہے میں ایک حلقۂ بے سمت اپنے مرکز پر یہ شش جہات ہیں کیسے یہ چار سو کیا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

میں نے اپنی روح کو اپنے تن سے الگ کر رکھا ہے

میں نے اپنی روح کو اپنے تن سے الگ کر رکھا ہے یوں نہیں جیسے جسم کو پیراہن سے الگ کر رکھا ہے میرے لفظوں سے گزرو مجھ سے درگزرو کہ میں نے فن کے پیرائے میں خود کو فن سے الگ کر رکھا ہے فاتحہ پڑھ کر یہیں سبک ہو لیں احباب چلو ورنہ میں نے اپنی میت کو مدفن سے الگ کر رکھا ہے گھر والے مجھے ...

مزید پڑھیے

یوں تو سو طرح کی مشکل سخنی آئے ہمیں

یوں تو سو طرح کی مشکل سخنی آئے ہمیں پر وہ اک بات جو کہنی نہ ابھی آئے ہمیں کیسے توڑیں اسے جو ٹوٹ کے ملتی ہو گلے لاکھ چاہا کہ روایت شکنی آئے ہمیں ہر قدم اس متبادل سے بھری دنیا میں راس آئے تو بس اک تیری کمی آئے ہمیں پیاس بجھ جائے زمیں سبز ہو منظر دھل جائے کام کیا کیا نہ ان آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

آج پھر شب کا حوالہ تری جانب ٹھہرے

آج پھر شب کا حوالہ تری جانب ٹھہرے چاند مضمون بنے شرح کواکب ٹھہرے داد و تحسین کی بولی نہیں تفہیم کا نقد شرط کچھ تو مرے بکنے کی مناسب ٹھہرے نیک گزرے مری شب صدق بدن سے تیرے غم نہیں رابطۂ صبح جو کاذب ٹھہرے مخلصی باعث تضحیک ذہانت دشمن یہ محاسن تو مرے حق میں معائب ٹھہرے میں ہوں خود ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے زخم کریدتے ہیں وہ زخم پرائے دھوتے تھے

ہم اپنے زخم کریدتے ہیں وہ زخم پرائے دھوتے تھے جو ہم سے زیادہ جانتے تھے وہ ہم سے زیادہ روتے تھے اچھوں کو جہاں سے اٹھے ہوئے اب کتنی دہائیاں بیت چکیں آخر میں ادھر جو گزرے ہیں شاید ان کے پر پوتے تھے ان پیڑوں اور پہاڑوں سے ان جھیلوں ان میدانوں سے کس موڑ پہ جانے چھوٹ گئے کیسے یارانے ...

مزید پڑھیے

جانے قلم کی آنکھ میں کس کا ظہور تھا

جانے قلم کی آنکھ میں کس کا ظہور تھا کل رات میرے گیت کے مکھڑے پہ نور تھا نغمہ سا چھیڑتی تھیں تجلی کی انگلیاں توریت کا نزول بہ لحن زبور تھا وہ ساتھ ساتھ اور پہنچنا تھا اس تلک ہر آن ایک مرحلہ نزدیک و دور تھا ہیبت کے بام پر تھی بلاوے کی روشنی تھی وسوسوں کی شام پہ جانا ضرور تھا ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5831 سے 6203