اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کو
اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کو کچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کو چاندنی برسات صحن گلستاں دل کش ہوا تھیں ہجوم غم میں یہ رنگینیاں کل رات کو وسعت تخیئل کے حلقے میں تھا عرش بریں دیکھتی تھیں چشم دل کون و مکاں کل رات کو مل رہے تھے دست الفت سے مجھے جام شراب مہرباں تھا ...