قومی زبان

جو وفا کا رواج رکھتے ہیں

جو وفا کا رواج رکھتے ہیں صاف ستھرا سماج رکھتے ہیں قابل رحم ہیں وہ انساں جو خواہش تخت و تاج رکھتے ہیں بھیج کر ہم جہیز پر لعنت اہل‌ غربت کی لاج رکھتے ہیں دل کشادہ بھی ہیں انہی کے جو سر پہ غربت کا تاج رکھتے ہیں برکت اللہ دیتا ہے ساحلؔ لاکھ ہم کم اناج رکھتے ہیں

مزید پڑھیے

لیتا ہوں اس کا نام بھی آہ و بکا کے ساتھ

لیتا ہوں اس کا نام بھی آہ و بکا کے ساتھ کتنا حسین رشتہ ہے میرا خدا کے ساتھ اس کی قبولیت میں کوئی شک نہیں رہا بھیجے ہیں ہم نے اشک بھی اب کے دعا کے ساتھ بجھتے ہوئے چراغ کو ہاتھوں میں لے لیا اس بار بازی جیت لی میں نے ہوا کے ساتھ آ کے بچا لے موت مجھے زندگی سے تو کتنی گزاروں اور میں اس ...

مزید پڑھیے

احساس عشق دل کی پناہوں میں آ گیا

احساس عشق دل کی پناہوں میں آ گیا بادل سمٹ کے چاند کی باہوں میں آ گیا اظہار عشق میں نے کسی سے نہیں کیا اور بے سبب جہاں کی نگاہوں میں آ گیا وہ مسکرا کے دیکھ رہے ہیں مری طرف اتنا اثر تو اب مری آہوں میں آ گیا کیا پوچھتے ہو عزم سفر کی کرامتیں منزل کا نقش خود مری راہوں میں آ گیا ہیں ...

مزید پڑھیے

تصور میں بھی جس کی جستجو کرتا ہے دل میرا

تصور میں بھی جس کی جستجو کرتا ہے دل میرا اسی سے ہجر میں بھی گفتگو کرتا ہے دل میرا ندامت سے گناہوں پر جو روتی ہیں کبھی آنکھیں انہی پاکیزہ اشکوں سے وضو کرتا ہے دل میرا تری یادوں کے خنجر ذہن کو جب چاک کرتے ہیں اسے جھوٹی تسلی سے رفو کرتا ہے دل میرا جسارت دیکھنے کی جس کو کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

مرے دن کی طرح روشن مری ہر رات ہوتی ہے

مرے دن کی طرح روشن مری ہر رات ہوتی ہے دعا ماں کی ہر اک موسم میں میرے ساتھ ہوتی ہے عجب دستور ہے اک یہ بھی اظہار محبت کا زباں خاموش رہتی ہے نظر سے بات ہوتی ہے تلاش رزق میں جب بھی کبھی گھر سے نکلتا ہوں مرے ہم راہ پیہم گردش حالات ہوتی ہے بھلا الزام کوئی دشمنی پر کیا رکھا جائے کہ اب ...

مزید پڑھیے

بہت کچھ محنتوں سے اک ذرا عزت کمائی ہے

بہت کچھ محنتوں سے اک ذرا عزت کمائی ہے اندھیرے جھونپڑے میں روشنی جگنو سے آئی ہے تصدق زندگی فاقوں پہ اس کے عہد حاضر میں کہ جس نے جان دے کر آبرو اپنی بچائی ہے ہمیں انکار ہے باطل پرستوں کی قیادت سے ہماری زندگی کی ہر تمنا کر بلائی ہے خود اپنے شہر میں اپنا شناسائی نہیں کوئی نہ جانے ...

مزید پڑھیے

گرد فراق غازہ کش آئنہ نہ ہو

گرد فراق غازہ کش آئنہ نہ ہو چاہو جو تم تو اپنے تصرف میں کیا نہ ہو سجدہ کے ہر نشاں پہ ہے خوں سا جما ہوا یارو یہ اس کے گھر کا کہیں راستہ نہ ہو زخموں کی مشعلیں لیے گزرا ہے دل سے کون یادوں کا کوئی بھٹکا ہوا قافلہ نہ ہو کب سے کھڑا ہوں ایک دوراہے پہ بت بنا سب کچھ جو دیکھتا ہو مگر بولتا ...

مزید پڑھیے

ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو

ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو تم کسی روز اگر دل میں اتر کر دیکھو نکلو سڑکوں پہ تو ہنستی ہوئی لاشوں سے ملو بند آنکھیں جو کرو قتل کا منظر دیکھو آنچ قربت کی نہ پگھلا دے کہیں تار نظر شعلۂ حسن کو کچھ دور سے بچ کر دیکھو یہ تو کہتے ہو کہ خود میں نے کٹائی گردن کوئی ہاتھوں میں ہوا ...

مزید پڑھیے

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے

ہر انساں اپنے ہونے کی سزا ہے بھرے بازار میں تنہا کھڑا ہے نئے دربانوں کے پہرے بٹھاؤ ہجوم درد بڑھتا جا رہا ہے رہے ہم ہی جو ہر پتھر کی زد میں ہماری سر بلندی کی خطا ہے مہکتے گیسوؤں کی رات گزری سوا نیزے پہ اب سورج کھڑا ہے مرے خوابوں کی چکنی سیڑھیوں پر نہ جانے کس کا بت ٹوٹا پڑا ...

مزید پڑھیے

بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے

بہار بن کے خزاں کو نہ یوں دلاسا دے نگاہیں پھیر لے اپنی نہ خود کو دھوکا دے مصاف زیست ہے بھر دے لہو سے جام مرا نہ مسکرا کے مجھے ساغر تمنا دے کھڑا ہوا ہوں سر راہ منتظر کب سے کہ کوئی گزرے تو غم کا یہ بوجھ اٹھوا دے وہ آنکھ تھی کہ بدن کو جھلس گئی قربت مگر وہ شعلہ نہیں روح کو جو گرما ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5817 سے 6203