قومی زبان

مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے میری بھی کوئی قیمت ہو گئی ہے وہ جب سے ملتفت مجھ سے ہوئے ہیں یہ دنیا خوب صورت ہو گئی ہے چڑھایا جا رہا ہوں دار پر میں بیاں مجھ سے حقیقت ہو گئی ہے رواں دریا ہیں انسانی لہو کے مگر پانی کی قلت ہو گئی ہے مجھے بھی اک ستم گر کے کرم سے ستم سہنے کی عادت ہو گئی ...

مزید پڑھیے

لاکھ پردوں میں گو نہاں ہم تھے

لاکھ پردوں میں گو نہاں ہم تھے پھر بھی ہر چیز سے عیاں ہم تھے ایک عالم کے ترجماں ہم تھے ان کے آگے ہی بے زباں ہم تھے ہم ہی ہم تھے وہاں جہاں ہم تھے آپ آئے تو پھر کہاں ہم تھے ہر رگ و پے میں برق رقصاں تھی ہائے وہ وقت جب جواں ہم تھے آج تو خیر سے ہیں عرش مقام کل زمیں پر بھی آسماں ہم ...

مزید پڑھیے

زندگی گزری مری خشک شجر کی صورت

زندگی گزری مری خشک شجر کی صورت میں نے دیکھی نہ کبھی برگ و ثمر کی صورت خوب جی بھر کے رلائیں جو نظر میں ان کی قیمتی ہوں مرے آنسو بھی گہر کی صورت اپنے چہرے سے جو زلفوں کو ہٹایا اس نے دیکھ لی شام نے تابندہ سحر کی صورت اس نئے دور کی تہذیب سے اللہ بچائے مسخ ہوتی نظر آتی ہے بشر کی ...

مزید پڑھیے

حرف شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم

حرف شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم زخم کھا کر بھی مسکراؤ تم اپنے حق کے لیے لڑو بے شک دوسروں کا نہ حق دباؤ تم سب اسے دل لگی سمجھتے ہیں اب کسی سے نہ دل لگاؤ تم مصلحت کا یہی تقاضا ہے وہ نہ مانیں تو مان جاؤ تم اپنا سایہ بھی اب نہیں اپنا اپنے سائے سے خوف کھاؤ تم موت منڈلا رہی ہے شہروں پر جا کے ...

مزید پڑھیے

کمال حسن کا جس سے تمہیں خزانہ ملا

کمال حسن کا جس سے تمہیں خزانہ ملا مجھے اسی سے یہ انداز عاشقانہ ملا جبین شوق کو آسودگی نصیب ہوئی سر نیاز کو جب تیرا آستانہ ملا تمام عمر سہاروں کی جستجو میں رہا وہ بد نصیب جسے تیرا آسرا نہ ملا کمی نہ تھی مری دنیا میں آشناؤں کی ستم تو یہ ہے کوئی درد آشنا نہ ملا صنم کدوں میں تو ...

مزید پڑھیے

تمہیں زیبا نہیں ہرگز صلے کی آرزو رکھنا

تمہیں زیبا نہیں ہرگز صلے کی آرزو رکھنا تمہارا کام ہے آتشؔ قلم کی آبرو رکھنا اگر دل میں تمنائے نشاط رنگ و بو رکھنا مآل خندہ گل کو بھی اپنے رو بہ رو رکھنا یہ مے خانہ ہے مے خانہ تقدس اس کا لازم ہے یہاں جو بھی قدم رکھنا ہمیشہ با وضو رکھنا کہیں طوق و سلاسل ہیں کہیں زہر ہلاہل ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

ستم کو ان کا کرم کہیں ہم جفا کو مہر و وفا کہیں ہم

ستم کو ان کا کرم کہیں ہم جفا کو مہر و وفا کہیں ہم زمانہ اس بات پر بضد ہے کہ ناروا کو روا کہیں ہم کچھ ایسا سودا ہے سب کے سر میں مزاج بگڑے ہوئے ہیں سب کے کوئی بھی سنتا نہیں کسی کی کہیں کسی سے تو کیا کہیں ہم یہ ساری باتیں ہیں درحقیقت ہمارے اخلاق کے منافی سنیں برائی نہ ہم کسی کی نہ خود ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات ہے کچھ غم جہاں جہاں نہ ہوا

یہ اور بات ہے کچھ غم جہاں جہاں نہ ہوا ہمارے حال کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا ہوئے ہو جاں بہ لب اب ہوگا کیا تمنا کا جہاں پہ ڈھونڈتے ہو دل اگر وہاں نہ ہوا ملے جو جرم وفا کی سزا یہیں پہ ملے حساب اپنا کہاں ہوگا جو یہاں نہ ہوا نہیں ہیں آنسو ہی کوئی زباں مرے دل کی ہے ایسا اشک بھی آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

تصویر کے خطوط وہ شہکار بولتے

تصویر کے خطوط وہ شہکار بولتے سب نقش ہائے صنعت معمار بولتے ہیں ہم شیش گھر میں اپنا سراپا نہ پڑھ سکے حسرت رہی کہ آئنے اک بار بولتے تنہائی کو ملا ہے وہ اعجاز درد ہے زنداں کے دیکھیے در و دیوار بولتے کیا کیا نہ گھر جمال کے آباد تھے یہاں کس دکھ سے شہر ویراں کے آثار بولتے ہر بات میں ...

مزید پڑھیے

فسردہ دل ہے نظروں کی پریشانی نہیں جاتی

فسردہ دل ہے نظروں کی پریشانی نہیں جاتی کہ اب تصویر میری مجھ سے پہچانی نہیں جاتی تمہاری ہی گلی میں عمر کٹ جائے تو بہتر ہے کہ مجھ سے در بدر کی خاک اب چھانی نہیں جاتی غلامی نے تمہاری وہ عطا کی ہے مجھے عظمت کہ شاہی میں بھی دل سے خوئے دربانی نہیں جاتی کہیں لاکھوں کا گنبد ہے بشکل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5816 سے 6203