قومی زبان

غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا

غبار درد سے سارا بدن اٹا نکلا جسے بھی خندہ بہ لب دیکھا غم زدا نکلا اب احتیاط بھی اور کیا ہو بے لباس تو ہوں اک آستین سے مانا کہ اژدہا نکلا مرے خلوص پہ شک کی تو کوئی وجہ نہیں مرے لباس میں خنجر اگر چھپا نکلا لگا جو پیٹھ میں نیزہ تو سمجھے دشمن ہے مگر پلٹ کے جو دیکھا تو آشنا نکلا مرے ...

مزید پڑھیے

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا قضاوقدر کا چہرہ اتر گیا ہوگا جو اپنے ہاتھوں لٹے ہیں بس اس پہ زندہ ہیں خدا کچھ ان کے لیے بھی تو سوچتا ہوگا تری گلی میں کوئی سایہ رات بھر اب بھی سراغ جنت گم گشتہ ڈھونڈتا ہوگا جو غم کی آنچ میں پگھلا کیا اور آہ نہ کی وہ آدمی تو نہیں کوئی دیوتا ...

مزید پڑھیے

اس طلسم روز و شب سے تو کبھی نکلو ذرا

اس طلسم روز و شب سے تو کبھی نکلو ذرا کم سے کم وجدان کے صحرا ہی میں گھومو ذرا نام کتنے ہی لکھے ہیں دل کی اک محراب پر ہوگا ان میں ہی تمہارا نام بھی ڈھونڈو ذرا بدگمانی کی یہی غیروں کو کافی ہے سزا مسکرا کر پھر اسی دن کی طرح دیکھو ذرا وقت کے پتھر کے نیچے اک دبا چشمہ ہوں میں آؤ پیاسو مل ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ ہمیں اہل جفا رسوا کریں

اس سے پہلے کہ ہمیں اہل جفا رسوا کریں اپنی جاں دے کر وفا کرنے کا ہم وعدہ کریں آؤ شبنم کی طرح بن جائیں تقدیر چمن کیوں کلی بن کر کھلیں اور کھل کے مرجھایا کریں گلشن ہستی میں ہم ساون کے بادل کی طرح جھوم کر اٹھا کریں اور ٹوٹ کر برسا کریں خاکۂ الفت میں خوں بھرنا تھا ہم نے بھر دیا لوگ ...

مزید پڑھیے

لہو کی بوند مثل آئنہ ہر در پہ رکھی تھی

لہو کی بوند مثل آئنہ ہر در پہ رکھی تھی سند اہل وفا کی لاشۂ بے سر پہ رکھی تھی نگاہیں وقت کی کیسے نظر انداز کر دیتیں اساس گلستاں کترے ہوئے شہ پر پہ رکھی تھی انا مجروح ہو جاتی قدم پیچھے اگر ہٹتے بنائے قرب دوہری دھار کے خنجر پہ رکھی تھی ادھر ہم سر ہتھیلی پر لیے مقتل میں پہنچے ...

مزید پڑھیے

خبر بھی ہے یہ خرد آگ کے پتلے جنوں کے زیر اثر رہے ہیں

خبر بھی ہے یہ خرد آگ کے پتلے جنوں کے زیر اثر رہے ہیں سروں پہ سورج اٹھانے والے خود اپنے سائے سے ڈر رہے ہیں سکوں سے مرتے ہیں مرنے والے جنہیں اجالوں کی ہے تمنا یہی بہت ہے کہ سوئے مقتل چراغ شام و سحر رہے ہیں انہیں بھروسہ دو زندگی کا جنہیں محبت ہے زندگی سے اجل کے ہم نقش پا پہ چل کر فنا ...

مزید پڑھیے

تری وفا کا ہوا تھا کبھی گماں مجھ کو

تری وفا کا ہوا تھا کبھی گماں مجھ کو وہی خیال ہوا عیش جاوداں مجھ کو شکایت ستم دشمناں میں کیا کرتا کہ بھولتا ہی نہیں لطف دوستاں مجھ کو ترے جمال کا ذکر جمیل میں کرتا نہ مل سکا کوئی عالم میں رازداں مجھ کو نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ رہبر ہے تری تلاش نے گم کر دیا کہاں مجھ کو تو خود ملے ...

مزید پڑھیے

نزع کی سختی بڑھی ان کو پشیماں دیکھ کر

نزع کی سختی بڑھی ان کو پشیماں دیکھ کر موت مشکل ہو گئی جینے کا ساماں دیکھ کر وہ کبھی جب التفات ناز سے لیتے ہیں کام کانپ جاتا ہوں میں اپنے دل کے ارماں دیکھ کر کرتے ہیں ارباب دل اندازۂ جوش بہار میرا دامن دیکھ کر میرا گریباں دیکھ کر وہ نہ اگلا باغباں ہے اب نہ اگلے ہم صفیر یاد کرتا ...

مزید پڑھیے

محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا

محبت غیر فانی ہے مرض ہے لا دوا میرا خدا کی ذات باقی ہے محبت ہے خدا میرا نہ جیتے جی ہوا ہرگز وفا نا آشنا میرا پر اس کی داستاں بن کر رہا ذکر وفا میرا جفا کا تیری طالب ہوں وفا ہے مدعا میرا یقین نا مرادی پر بھی دیکھو حوصلہ میرا یہ کیسی چھیڑ ہے کیوں پوچھتے ہو مدعائے دل ہوئے جب مدعی کے ...

مزید پڑھیے

کسی سے عشق کرنا اور اس کو باخبر کرنا

کسی سے عشق کرنا اور اس کو باخبر کرنا ہے اپنے مطلب دشوار کو دشوار تر کرنا نہیں ہے موت پر بھی اختیار اے وائے مجبوری امید مرگ میں مشکل بسر کرنا مگر کرنا قفس میں قید کرنا تھا تو بال و پر کترنے تھے ستم ہے بال و پر رکھتے ہوئے بھی یوں بسر کرنا جو پر تھے مایۂ پرواز ہیں وجہ گراں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5818 سے 6203