قومی زبان

اسے دیکھ کر اپنا محبوب پیارا بہت یاد آیا

اسے دیکھ کر اپنا محبوب پیارا بہت یاد آیا وہ جگنو تھا اس سے ہمیں اک ستارہ بہت یاد آیا یہی شام کا وقت تھا گھر سے نکلے کہ یاد آ گیا تھا بہت دن ہوئے آج وہ سب دوبارہ بہت یاد آیا سحر جب ہوئی تو بہت خامشی تھی زمیں شبنمی تھی کبھی خاک دل میں تھا کوئی شرارہ بہت یاد آیا برستے تھے بادل دھواں ...

مزید پڑھیے

ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں

ایک خدا پر تکیہ کر کے بیٹھ گئے ہیں دیکھو ہم بھی کیا کیا کر کے بیٹھ گئے ہیں پوچھ رہے ہیں لوگ ارے وہ شخص کہاں ہے جانے کون تماشا کر کے بیٹھ گئے ہیں اترے تھے میدان میں سب کچھ ٹھیک کریں گے سب کچھ الٹا سیدھا کر کے بیٹھ گئے ہیں سارے شجر شادابی سمیٹے اپنی اپنی دھوپ میں گہرا سایہ کر کے ...

مزید پڑھیے

کتنی محبوب تھی زندگی کچھ نہیں کچھ نہیں

کتنی محبوب تھی زندگی کچھ نہیں کچھ نہیں کیا خبر تھی اس انجام کی کچھ نہیں کچھ نہیں آج جتنے برادر ملے چاک چادر ملے کیسی پھیلی ہے دیوانگی کچھ نہیں کچھ نہیں پیچ در پیچ چلتے گئے ہم نکلتے گئے جانے کیا تھی گلی در گلی کچھ نہیں کچھ نہیں موج در موج اک فاصلہ رفتہ رفتہ بڑھا کشتی آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

کچھ اپنا پتہ دے کر حیران بہت رکھا

کچھ اپنا پتہ دے کر حیران بہت رکھا سرگرمی وحشت کا امکان بہت رکھا ایسا تو نہ تھا مشکل اک ایک قدم اٹھنا اس بار عجب میں نے سامان بہت رکھا پربت کے کنارے سے اک راہ نکلتی ہے دکھلایا بہت مشکل آسان بہت رکھا کیا فرض تھا ہر اک کو خوشبو کا پتہ دینا بس باغ محبت کو ویران بہت رکھا لوگوں نے ...

مزید پڑھیے

ایک مشعل تھی بجھا دی اس نے

ایک مشعل تھی بجھا دی اس نے پھر اندھیروں کو ہوا دی اس نے کس قدر فرط عقیدت سے جھکا اور پھر خاک اڑا دی اس نے دم بہ دم مجھ پہ چلا کر تلوار ایک پتھر کو جلا دی اس نے یاں تو آتا ہی نہیں تھا کوئی آن کر بزم سجا دی اس نے

مزید پڑھیے

پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں

پاؤں رکتے ہی نہیں ذہن ٹھہرتا ہی نہیں کوئی نشہ ہے تھکن کا کہ اترتا ہی نہیں دن گزرتے ہیں گزرتے ہی چلے جاتے ہیں ایک لمحہ جو کسی طرح گزرتا ہی نہیں بھاری دروازۂ آہن کہ نہیں کھل پاتا میرے سینے میں یہ سناٹا اترتا ہی نہیں دست جاں سے میں اٹھا لوں اسے پی لوں لیکن دل وہ زہراب پیالہ ہے کہ ...

مزید پڑھیے

خموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا کی طرح

خموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا کی طرح کوئی پیام تو دو رمز آشنا کی طرح کہیں تمہاری روش خار و گل پہ بار نہ ہو ریاض دہر سے گزرے چلو صبا کی طرح نیاز و عجز ہی معراج آدمیت ہیں بڑھاؤ دست سخاوت بھی التجا کی طرح جو چاہتے ہو بدلنا مزاج طوفاں کو تو ناخدا پہ بھروسا کرو خدا کی طرح مجھے ہمیشہ ...

مزید پڑھیے

آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں

آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں جب قریب آتے ہو خود سے دور ہو جاتا ہوں میں دار پر چڑھ کر کبھی منصور ہو جاتا ہوں میں طور پر جا کر کلیم طور ہو جاتا ہوں میں یوں کسی سے اپنے غم کی داستاں کہتا نہیں پوچھتے ہیں وہ تو پھر مجبور ہو جاتا ہوں میں اپنی فطرت کیا کہوں اپنی طبیعت کیا ...

مزید پڑھیے

وہ میرے قلب کو چھیدے گا کب گمان میں تھا

وہ میرے قلب کو چھیدے گا کب گمان میں تھا جو ایک تیر مرے دوست کی کمان میں تھا وہ زیر سایۂ الطاف باغبان میں تھا جو آشیانہ زد برق بے امان میں تھا فگار لے سے ہوا میری سینۂ نے بھی نفس نفس تری چاہت کا امتحان میں تھا یہ معجزہ تھا یقیناً تری محبت کا جو اوج فکر و تخیل مرے بیان میں تھا وہ ...

مزید پڑھیے

ابتدا بگڑی انتہا بگڑی

ابتدا بگڑی انتہا بگڑی ابن آدم کی ہر ادا بگڑی چارہ سازوں کی چارہ سازی سے اور بیمار کی دشا بگڑی باز آیا نہ اپنی فطرت سے میری ناصح سے بارہا بگڑی بن گیا مرجع خلائق دشت شہر کی اس قدر فضا بگڑی نام رکھا گیا سموم اس کا لالہ و گل سے جب صبا بگڑی مے کدے میں بھی دیکھ کر نہ کہو نیت شیخ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5815 سے 6203