قومی زبان

غنچے کا جواب ہو گیا ہے

غنچے کا جواب ہو گیا ہے دل کھل کے گلاب ہو گیا ہے پا کر تب و تاب سوز غم سے آنسو در ناب ہو گیا ہے کیا فکر بہار و محفل یار اب ختم وہ باب ہو گیا ہے امید سکوں کا ذکر رعنا سب خواب و سراب ہو گیا ہے مرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں جینا بھی عذاب ہو گیا ہے

مزید پڑھیے

کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں

کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میں دل گھرا رہتا ہے مہتابوں میں ہر تمنائے سکون ساحل الجھی الجھی رہی سیلابوں میں دل انساں کی سیاہی توبہ ظلمتیں بس گئیں مہتابوں میں آپ کے فیض سے تنویریں ہیں کعبۂ عشق کی محرابوں میں اپنا ہر خواب تھا اک موج سرور یوں ہوئی عمر بسر خوابوں میں حسن قسمت ...

مزید پڑھیے

خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے

خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہے یہ طرز سخن آبروئے خوش سخناں ہے جو بات کہ خود میرے تکلم پہ گراں ہے وہ تیری سماعت کے تو قابل ہی کہاں ہے ہر ذرہ پہ ہے منزل محبوب کا دھوکا پہنچے کوئی اس بزم تک ان کا ہی کہاں ہے انسان نے اسرار جہاں فاش کیے ہیں سویا ہوا خورشید ہے ذرہ نگراں ہے فطرتؔ دل ...

مزید پڑھیے

مری میں جشن شب منور

گھر اے دل بے قرار زنداں سے کم نہیں قید کون کاٹے حسین سرما کا چاند دیوانہ وار کو بلا رہا ہے فسون‌ مہتاب کی قسم ہے پھر آج شب کچھ نہ لکھ سکوں گا پھر آج گھر میں نہ رہ سکوں گا کہ اک جنوں سا ہے مجھ پہ طاری مناظر کوہ و کنج جشن شب منور منا رہے ہیں بلا رہے ہیں مجھے مرے واسطے قیامت اٹھا رہے ...

مزید پڑھیے

دل میں جو بات ہے بتاتے نہیں

دل میں جو بات ہے بتاتے نہیں دور تک ہم کہیں بھی جاتے نہیں عکس کچھ دیر تک نہیں رکتے بوجھ یہ آئنے اٹھاتے نہیں یہ نصیحت بھی لوگ کرنے لگے اس طرح مفت دل گنواتے نہیں دور بستی پہ ہے دھواں کب سے کیا جلا ہے جسے بجھاتے نہیں چھوڑ دیتے ہیں اک شرر بے نام آگ لگ جاتی ہے لگاتے نہیں بھول جانا ...

مزید پڑھیے

کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے یہ دریا اتنا پانی پی کے پیاسا کیسا لگتا ہے ہم اس سے تھوڑی دوری پر ہمیشہ رک سے جاتے ہیں نہ جانے اس سے ملنے کا ارادہ کیسا لگتا ہے میں دھیرے دھیرے ان کا دشمن جاں بنتا جاتا ہوں وہ آنکھیں کتنی قاتل ہیں وہ چہرہ کیسا لگتا ہے زوال جسم کو دیکھو ...

مزید پڑھیے

سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا

سائے پھیل گئے کھیتوں پر کیسا موسم ہونے لگا دل میں جو ٹھہراؤ تھا اک دم درہم برہم ہونے لگا پردیسی کا واپس آنا جھوٹی خبر ہی نکلی نا بوڑھی ماں کی آنکھ کا تارہ پھر سے مدھم ہونے لگا بچپن یاد کے رنگ محل میں کیسے کیسے پھول کھلے ڈھول بجے اور آنسو ٹپکے کہیں محرم ہونے لگا ڈھور ڈنگر اور ...

مزید پڑھیے

عجیب شے ہے کہ صورت بدلتی جاتی ہے

عجیب شے ہے کہ صورت بدلتی جاتی ہے یہ شام جیسے مقابر میں ڈھلتی جاتی ہے چہار سمت سے تیشہ زنی ہوا کی ہے یہ شاخ سبز کہ ہر آن پھلتی جاتی ہے پہنچ سکوں گا فصیل بلند تک کیسے کہ میرے ہاتھ سے رسی پھسلتی جاتی ہے کہیں سے آتی ہی جاتی ہے نیند آنکھوں میں کسی کے آنے کی ساعت نکلتی جاتی ہے نگہ کو ...

مزید پڑھیے

کسی کا قہر کسی کی دعا ملے تو سہی

کسی کا قہر کسی کی دعا ملے تو سہی سہی وہ دشمن جاں آشنا ملے تو سہی ابھی تو لال ہری بتیوں کو دیکھتے ہیں ملے کسی کی خبر سلسلہ ملے تو سہی یہ قید ہے تو رہائی بھی اب ضروری ہے کسی بھی سمت کوئی راستہ ملے تو سہی یہ شام سرد میں ہر سو الاؤ جلتے ہیں سیہ خموشی میں کوئی صدا ملے تو سہی قبائے جسم ...

مزید پڑھیے

کسی دشت و در سے گزرنا بھی کیا

کسی دشت و در سے گزرنا بھی کیا ہوئے خاک جب تو بکھرنا بھی کیا وہی اک سمندر وہی اک ہوا مری شام تیرا سنورنا بھی کیا لکیروں کے ہیں کھیل سب زاویے ادھر سے ادھر پاؤں دھرنا بھی کیا مجھے اوب سی سب سے ہونے لگی یہ جینا بھی کیا اور مرنا بھی کیا اگر ان سے بچ کر نکل جائیے تو پھر اس کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5814 سے 6203