غنچے کا جواب ہو گیا ہے
غنچے کا جواب ہو گیا ہے دل کھل کے گلاب ہو گیا ہے پا کر تب و تاب سوز غم سے آنسو در ناب ہو گیا ہے کیا فکر بہار و محفل یار اب ختم وہ باب ہو گیا ہے امید سکوں کا ذکر رعنا سب خواب و سراب ہو گیا ہے مرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں جینا بھی عذاب ہو گیا ہے