قومی زبان

دل نہیں ہے تو جستجو بھی نہیں

دل نہیں ہے تو جستجو بھی نہیں اب کوئی شہر آرزو بھی نہیں عشق آزاد ہے کشاکش سے نامہ بر بھی نہیں عدو بھی نہیں حال و احوال کچھ نہیں معلوم ایک مدت سے گفتگو بھی نہیں ہر حوالہ نئی کتاب سے ہے کوئی ایضاً کوئی ہمو بھی نہیں مہرباں ہے تو اپنے مطلب سے ورنہ وہ ایسا نرم خو بھی نہیں اب بس ...

مزید پڑھیے

عشق اک امر لا شعوری ہے

عشق اک امر لا شعوری ہے دونوں جانب سے کیا ضروری ہے سانحہ ہو کہ خوش گوار انجام خود میں ہر داستاں ادھوری ہے وہ مرا چاند ہے مگر ہم میں اک زمیں آسماں کی دوری ہے کامیابی کا راز جانو ہو اک ذرا مشق جی حضوری ہے اک طرف اس کے ناز کا عالم اک طرف میری ناصبوری ہے یوں بھی لا تقنطو کی ہے ...

مزید پڑھیے

زمین ان کے لئے پھول کھلاتی ہے

جب آگ جلی ناف کے نیچے تو زمیں پھیل گئی آگ جلی اور بدن پھیل گئے آنکھوں کی آوارگی بے رنگ ہوئی دھوپ ہوا چاندنی سب بستیوں میں خاک اڑی قافلے ہی قافلے تھے قافلے جو درد کے وطنوں سے چلے چلتے گئے اجنبی خوشبو کی طرف اس کی طرف جس کے لیے ساری کتابوں میں لکھا ہے وہ کبھی ہاتھ نہیں آتی کبوتروں سے ...

مزید پڑھیے

چپ چاپ گزر جاؤ

یہاں ہارن بجانے کی اجازت نہیں اور میں نے تمنا کا بھرم کھول دیا ہے کہ سمندر کی ہوا سینے سے ٹکرائے تو پردہ نہ رہے اس کی مہک سر پہ کفن باندھ کے نکلی ہے ہر اک راستے ہر موڑ پہ آواز لگاتی ہے مگر کوئی نہیں رکتا بسنت آئی ہے سب بھاگ رہے ہیں کوئی آواز نہیں دیتا کوئی مڑ کے نہیں دیکھتا پٹرول ...

مزید پڑھیے

اپنے اپنے سوراخوں کا ڈر

''نئی سڑکوں کے نقشے'' کارخانے اونچے اونچے پل مرے منصوبے دیکھو اور کتابوں میں پڑھو'' اس نے کہا۔۔۔ ''میرے بدن پر ہاتھ بھی پھیرو مگر سوراخ سے انگلی الگ رکھو'' مگر اس کے بدن پر ہر طرف سوراخ ہی سوراخ ہیں انگلی الگ رکھو! تو کیا میں انگلیوں کو توڑ دوں؟ میں انگلیوں کو توڑ دوں؟ پھر کون تیرے ...

مزید پڑھیے

نیک دل لڑکیو

نیک دل لڑکیو آرزو کی نمائش سے گزرو تو چاروں طرف دیکھنا اور پھر جب تمہارے لہو میں کسی کا لہو سرسرائے ستاروں میں آنکھیں چھپا کر دعا مانگنا قیدیوں شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لئے اور بیمار بچوں کی ماں کے لئے اور پھر نرم ہونٹوں کی حدت سے جب چھاتیوں میں ہوا سنسناتی سنو نیک دل لڑکیو ...

مزید پڑھیے

ہل ٹیڑھا ہے

شیشے کے بدن میں رہتا ہوں میں آج ہوں میرے آگے پیچھے کل ہیں پھر بھی تن تنہا ہوں حاملہ مٹی کے اوپر سینے کے بل لیٹا ہوں سر اور پیر تصادم میں ہیں تاریکی کے پیچھے بھاگ رہا ہوں کچی موت کے بعد جوں ہی زندہ ہوتا ہوں میرے سرہانے نئی نویلی دلہن دھوپ دہک اٹھتی ہے سر اور پیر تصادم میں حق زوجیت ...

مزید پڑھیے

میری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں دیکھ تو لوں

میری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں دیکھ تو لوں رفعت درد جگر ہے کہ نہیں دیکھ تو لوں وہ جو تھا باعث تسکین غم ہجر کبھی اب وہی دیدۂ تر ہے کہ نہیں دیکھ تو لوں وہ تو آ جائیں گے سر تا پا تجلی بن کر تاب نظارہ مگر ہے کہ نہیں دیکھ تو لوں شام غم روز ازل سے رہی ہم راہ مرے میرے غم کی بھی سحر ہے کہ ...

مزید پڑھیے

نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا

نخچیر ہوں میں کشمکش فکر و نظر کا حق مجھ سے ادا ہو نہ در و بست ہنر کا مغرب مجھے کھینچے ہے تو روکے مجھے مشرق دھوبی کا وہ کتا ہوں کہ جو گھاٹ نہ گھر کا دبتا ہوں کسی سے نہ دباتا ہوں کسی کو قائل ہوں مساوات بنی نوع بشر کا ہر چیز کی ہوتی ہے کوئی آخری حد بھی کیا کوئی بگاڑے گا کسی خاک بسر ...

مزید پڑھیے

فتح کتنی خوبصورت ہے مگر کتنی گراں

فتح کتنی خوبصورت ہے مگر کتنی گراں بارہا رد کی ہے میں نے دعوت وصل بتاں نغمۂ بلبل ہے فریاد وداع فصل گل سعیٔ حاصل در حقیقت ہے متاع رائیگاں زندہ رہنے کے ہیں امکانات کیا آثار کیا کون سی قدریں ہیں باقی کون سی سچائیاں شاعروں کا کام کیا تنسیق اوصاف و لغوت یا ثنا شاہوں کی یا مدح‌‌ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5810 سے 6203