قومی زبان

زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں

زمیں نژاد ہیں لیکن زماں میں رہتے ہیں مکاں نصیب نہیں لا مکاں میں رہتے ہیں وہ ڈول ڈالیں کسی کار پائیدار کا کیا جو بے ثباتیٔ عمر رواں میں رہتے ہیں ہم ایسے اہل چمن گوشۂ قفس میں بھی حساب خار و خس آشیاں میں رہتے ہیں نہ بود و باش کو پوچھو کہ ہم فقیر منش سخن کے معبد بے سائباں میں رہتے ...

مزید پڑھیے

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے

بھولوں انہیں کیسے کیسے کیسے وہ لمحے جو تیرے ساتھ گزرے ہے راہنما جبلت ان کی بے حس نہیں موسمی پرندے اے دانشور مفر نہیں ہے اقرار وجود کبریا سے جانا کوئی کارساز بھی ہے ٹوٹے بن بن کے جب ارادے محراب عمود برج قوسیں رس میں ڈوبے بھرے بھرے سے بحر کافور میں تلاطم بھونرا بیٹھا کنول کو ...

مزید پڑھیے

پھولی ہے شفق گو کہ ابھی شام نہیں ہے

پھولی ہے شفق گو کہ ابھی شام نہیں ہے ہے دل میں وہ غم جس کا کوئی نام نہیں ہے کس کو نہیں کوتاہیٔ قسمت کی شکایت کس کو گلہ گردش ایام نہیں ہے افلاک کے سائے تلے ایسا بھی ہے کوئی جو صید زبوں مایۂ آلام نہیں ہے چھلکوں کے ہیں انبار مگر مغز ندارد دنیا میں مسلماں تو ہیں اسلام نہیں ہے ایماں ...

مزید پڑھیے

قرب نس نس میں آگ بھرتا ہے

قرب نس نس میں آگ بھرتا ہے وصل سے اضطراب بڑھتا ہے میں فقط ایک خواب تھا تیرا خواب کو کون یاد رکھتا ہے آج کی شب شب قیامت ہے دل مرا بے طرح دھڑکتا ہے فقر کیا ہے بہ دوست پیوستن غم کا عرفاں ہے آگہی کیا ہے میں ملاتا ہوں شعر و آتش کو فن مجھے کیمیا کا آتا ہے توشۂ راہ عشق ہے اندوہ غم دلوں ...

مزید پڑھیے

ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے

ہوں کیوں نہ منکشف اسرار پست و بالا کے جمے ہیں پاؤں زمیں پر سر آسماں کو چھوئے جو سر نوشت میں ہے اس کو ہو کے رہنا ہے تو کس بھروسے پہ انسان جد و جہد کرے اب آسماں سے صحیفے نہیں اترتے مگر کھلا ہوا ہے در اجتہاد سب کے لیے زباں عطا کرے شعر ان کی بے زبانی کو جو اپنے کرب کا اظہار کر نہیں ...

مزید پڑھیے

قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے

قضا سے قرض کس مشکل سے لی عمر بقا ہم نے متاع زندگی دے کر کیا یہ قرض ادا ہم نے ہمیں کس خواب سے للچائے گی یہ پر فسوں دنیا کھرچ ڈالا ہے لوح دل سے حرف مدعا ہم نے کریں لب کو نہ آلودہ کبھی حرف شکایت سے شعار اپنا بنایا شیوۂ صبر و رضا ہم نے ہم اس کے ہیں سراپا ادبدا کر اس سے کیا ...

مزید پڑھیے

تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو

تاکید کرو زمزمہ سنجان چمن کو بے چین ہوں دل جن سے وہ نغمے نہ الاپو اے اہل وطن! کھاؤ پیو شوق سے لیکن کھیلو نہ کبھی سر سے کبھی منہ سے نہ بولو ہر طائر پراں کے پر و بال کرو قینچ ہر بندۂ آزاد کو شیشے میں اتارو بن جائے روایت نہ کہیں حلقۂ زنجیر ہر رفتہ کو موجود کی میزان پہ تولو پرسان ...

مزید پڑھیے

میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں

میں بات کون سے پیرایۂ بیاں میں کروں جو سوچتا ہوں اسے کس زبان میں لکھوں کتر دئے ہیں زمانے نے پنکھ خوابوں کے بھرا ہے ساغر حسرت میں آرزوؤں کا خوں نہیں ہے کشتۂ خوباں کا خوں بہا کوئی اے اہل شوق نہ کھاؤ فریب حرف فسوں کبھی ہے چاند کا ہالہ نقاب لالہ کبھی انیلے رنگ دکھاتی ہے زلف غالیہ ...

مزید پڑھیے

خروش خم

تمام عمر دل خود نگر کی نذر ہوئی ادھورے خواب ہیں دامن میں تشنہ لب باتیں گلو گرفتہ گلے بے اثر مناجاتیں جو گھٹ کے مر گئیں سینے میں وہ ملاقاتیں جو کروٹوں میں کٹیں وہ گناہ کی راتیں بہ شوق قدر کہیں جن کی قدر ہو نہ سکی وہ ارمغان نوا وہ سخن کی سوغاتیں بہ نام حسن وہ چٹھی جو ڈر کی نذر ...

مزید پڑھیے

دل ہے مرا رمنۂ غزالان خیال

دل ہے مرا رمنۂ غزالان خیال بیٹھیں نہ کبھی نچلے وہ چنچل چونچال سوتے میں بھی رکھتے ہیں جگائے مجھ کو رم ان میں ہیں کچھ تو پکڑ جن کی محال

مزید پڑھیے
صفحہ 5811 سے 6203