میں پہنچا اپنی منزل تک مگر آہستہ آہستہ
میں پہنچا اپنی منزل تک مگر آہستہ آہستہ کیا ہے پورا اک مشکل سفر آہستہ آہستہ نہیں آساں حریم ناز تک کی تھی رسائی بھی ہوئے تسخیر لیکن بام و در آہستہ آہستہ متاع عزم محکم ہی کا اس کو معجزہ کہئے کہ منزل بن گئی خود رہ گزر آہستہ آہستہ بہت ہی سخت گرچہ زندگی کے معرکے تھے بھی کھلا ہے مجھ ...