قومی زبان

منکشف تلخئ حالات نہ ہونے پائی

منکشف تلخئ حالات نہ ہونے پائی آپ آئے بھی تو کچھ بات نہ ہونے پائی دل بھر آیا بھی تو آنکھوں سے نہ ٹپکے آنسو ابر چھایا بھی تو برسات نہ ہونے پائی آپ سے مل کے بھی اکثر یہی محسوس ہوا آپ سے گویا ملاقات نہ ہونے پائی ہم نے جیتے ہوئے دیکھا تو ہے دل والوں کو پر عیاں صورت حالات نہ ہونے ...

مزید پڑھیے

ہر مسرت سے کنارا کر لیا

ہر مسرت سے کنارا کر لیا ہم نے تیرا غم گوارا کر لیا چھٹ گئی کچھ شام غم کی تیرگی اشک جو ابھرا ستارا کر لیا آنکھ کھلتی ہی نہیں ہے جس طرح ان کا سوتے میں نظارا کر لیا لطف فرمایا نگاہ ناز نے اپنے بس میں دل ہمارا کر لیا اے مرے غم خوار تیرا شکریہ میں نے اپنے غم کا چارا کر لیا شب کی ...

مزید پڑھیے

کچھ حسیں یادیں بھی ہیں دیدۂ نم کے ساتھ ساتھ

کچھ حسیں یادیں بھی ہیں دیدۂ نم کے ساتھ ساتھ زندگی میں حسن بھی گویا ہے غم کے ساتھ ساتھ دل ترے ہم راہ جاتا ہے کہ پایا جاتا ہے نقش دل میرا ترے نقش قدم کے ساتھ ساتھ اس کے سائے کی طرح دیکھا نہیں اس سے جدا ہم نے تو یزداں کو پایا ہے صنم کے ساتھ ساتھ تاکہ ہوں دونوں کی لذت سے برابر ...

مزید پڑھیے

آج کیوں چپ ہیں تیرے سودائی

آج کیوں چپ ہیں تیرے سودائی ہوش آیا انہیں کہ موت آئی اپنے ارمان آپ کے وعدے ان کھلونوں سے عمر بھلائی پینے والوں کی خیر ہو یا رب تیری رحمت ہوئی گھٹا چھائی فکر سود و زیاں کی نذر ہوئے وہ غم عاشقی وہ رسوائی جستجو کی ہوئی تو یوں تکمیل زندگی موت کی خبر لائی سوزؔ جینے کی آرزو میں ...

مزید پڑھیے

گھر چھوڑ کے بھی گھر ہی کے آزار میں رہنا

گھر چھوڑ کے بھی گھر ہی کے آزار میں رہنا کھوئے ہوئے فکر در و دیوار میں رہنا کچھ اور بڑھا دیتا ہے معنی کا تأثر چپ رہ کے بھی پیرایۂ اظہار میں رہنا جو مصلحت وقت کو خاطر میں نہ لائے وہ حسن انا چاہئے فنکار میں رہنا

مزید پڑھیے

مرا دل جلے تو جلا کرے وہی کر جو تیرا خیال ہے

مرا دل جلے تو جلا کرے وہی کر جو تیرا خیال ہے مرے دل کی بات نہیں نہیں ترے گھر کا یہ تو سوال ہے نہ تو تاب عرض سوال ہے نہ تو دم زدوں کی مجال ہے مری خاموشی ہے فغاں بہ لب یہی قال ہے یہی حال ہے ترے حسن کا یہ کمال کیا یہ مجال کیا یہ خیال کیا ہے کمال حسن نظر مرا نہ جمال ہے نہ خیال ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

نازش حسن نظر ہیں ہم لوگ

نازش حسن نظر ہیں ہم لوگ عظمت شام و سحر ہیں ہم لوگ حسن دو روزہ پہ نازاں کیوں ہو دائمی کحل بصر ہیں ہم لوگ کارواں راہ گزر اور رہبر اور پھر گرد سفر ہیں ہم لوگ ہر قدم حسن کے محشر لیکن حشر کی حد نظر ہیں ہم لوگ کیوں زمانہ نہیں واقف ہم سے ہیبت و خوف و خطر ہیں ہم لوگ وقت ہے تیز رواں ہم ...

مزید پڑھیے

شدت غم سے آہ کر بیٹھے

شدت غم سے آہ کر بیٹھے عظمت غم تباہ کر بیٹھے چار ان سے نگاہ کر بیٹھے کتنا رنگیں گناہ کر بیٹھے ان کی جانب نگاہ کر بیٹھے ساری محفل گواہ کر بیٹھے ان کی دل جوئی ہر طرح سے کی غیر سے رسم و راہ کر بیٹھے درد دل تحفۂ محبت تھا درد دل سے نباہ کر بیٹھے گل سے عارض پہ شبنمی قطرے کیوں انہیں ...

مزید پڑھیے

یہ خیال شوق پرور دل کے بہلانے کو ہے

یہ خیال شوق پرور دل کے بہلانے کو ہے کوئی بے رخ بے رخی سے باز آ جانے کو ہے یہ معمہ میکدے میں کون سلجھانے کو ہے بے خودی ہشیار کو اور ہوش دیوانے کو ہے راز در پردہ کا پردہ خود بخود اٹھ جائے گا بس فقط ان سے نظر دو چار ہو جانے کو ہے میکدے میں شیخ کا آنا شگن اچھا نہیں ہوش کی لے ساقیا ...

مزید پڑھیے

کیوں حسن تبسم کی تکمیل نہیں ہوتی

کیوں حسن تبسم کی تکمیل نہیں ہوتی ہر صورت گل ان کی تمثیل نہیں ہوتی کرنے کو اجالا تو کر دیتی ہے گر پڑ کر ہر برق سر منزل قندیل نہیں ہوتی گل بنتے ہوئے شاید دیکھا نہیں کلیوں کو کیا چیز جوانی میں تبدیل نہیں ہوتی ہوتا نہ اگر دامن یہ چاک جنوں میں بھی رسوائی نہیں ہوتی تذلیل نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5804 سے 6203