قومی زبان

اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے

اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے تعجب نہیں کہ سب پانی ستی بوئے گلاب آوے جدھاں دیکھوں بہاراں میں نشاط بلبل و قمری مجھے اس وقت بے شک یاد ایام شباب آوے مرا افسانہ و افسوں ترے کن سبز کیونکے ہو سیہ مژگاں تمہاری دیکھ کے سبزے کوں خواب آوے مری انکھیاں پھڑکتی ہیں یقیں ہے دل منیں ...

مزید پڑھیے

مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ (ردیف .. ا)

مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ دل مرا ہو گیا ہے متوالا لب ترے لعل ہیں بدخشاں کے دانت تیرے ہیں لولو اے لالہ دیکھ گلشن میں آتشیں رخسار داغ ہو جل گیا گل لالہ اشک دریا نمن نین سیں چلیں جب کروں درد دل ستی نالہ بر میں یکروؔ کے کیوں نہ آیا ہائے دے گیا مجھ کوں سرو قد بالا

مزید پڑھیے

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا تری انکھیاں سلونی سانولی کا گیا تن سوکھ انکھیاں تر ہیں غم سیں ہوا ہوں شاہ خشکی و تری کا جبھی تو پان کھا کر مسکرایا تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا کہتا ہوں وصف دنداں و مسی کے مزا لیتا ہوں اب تل چاولی کا نہیں ہے ریختے کے بحر کا پار سمجھ مت شعر اس کوں پارسی ...

مزید پڑھیے

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم طوفان ہے پہاڑ کوں ڈالی اکھاڑ چشم ندی کنار روکھ کا ہو ہے نہ باس راست رو کرے بہائے اشک سیں مژگاں کے جھاڑ چشم عاشق کا جان کیونکے بچے گا کہ آج دل خوں ہو تری نگاہ سیں نکسے ہے پھاڑ چشم وہ خوش نگاہ دل میں لگا کے گیا ہے آگ آنجھو ہوئے ہیں دانۂ بریان ...

مزید پڑھیے

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے (ردیف .. ')

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے مجھ شب کی روشنی کوں تجھ رخ کا ماہ بس ہے سرمہ سے گرد مژگاں صف باندھ کے بٹھی ہیں شاہ نین کوں تیری یو قبلہ گاہ بس ہے دل کی شکستگی سوں پایا ہوں بادشاہی کرنے کوں سروری کے ایسی کلاہ بس ہے محشر کے خور کی تپ سیں کچھ ڈر نہیں ہمن کوں زلف سیہ کا سایہ دل ...

مزید پڑھیے

دل اپنا یاد یار سے بیگانہ تو نہیں

دل اپنا یاد یار سے بیگانہ تو نہیں گویا کہ خالی مے سے یہ پیمانہ تو نہیں منتا ہے میری بات تو نظریں ملا کے سن یہ میرا حال زار ہے افسانہ تو نہیں ہنستے ہو مل کے دنیا سے کیا میرے حال پر میں آپ کا دیوانہ ہوں دیوانہ تو نہیں اے شمع تجھ کو جلنا ہے اب اس کی آگ میں اک شعلہ تجھ سے لپٹا ہے ...

مزید پڑھیے

تو جو آباد ہے اے دوست مرے دل کے قریب

تو جو آباد ہے اے دوست مرے دل کے قریب میری منزل بھی ہے گویا تری منزل کے قریب ڈوب جاتے ہیں تلاطم میں سفینے اکثر ڈوبتا اور ہی کچھ بات ہے ساحل کے قریب اٹھ گیا دورئ منزل کی تھکن کا احساس راہ کچھ اور کٹھن ہو گئی منزل کے قریب موت ہر بار رہائی میں مری مانع ہوئی لے گئی زیست تو اکثر مجھے ...

مزید پڑھیے

مجھ سے میری حیات روٹھ گئی

مجھ سے میری حیات روٹھ گئی تم نہیں کائنات روٹھ گئی وہ بڑی مشکلوں سے آئی تھی تم نہ آئے تو رات روٹھ گئی موت کو موت آ گئی شاید یا ہماری نجات روٹھ گئی زندگی غم کا ساتھ دے نہ سکی دفعتاً بے ثبات روٹھ گئی سوزؔ عشرت میں ساتھ تھی دنیا پر دم مشکلات روٹھ گئی

مزید پڑھیے

دل غم عشق کے اظہار سے کتراتا ہے

دل غم عشق کے اظہار سے کتراتا ہے آہ غم خوار کہ غم خوار سے کتراتا ہے یہ سمجھ کر کے جفاؤں میں مزا پاتا ہے وہ ستم گر مرے آزار سے کتراتا ہے ہو گیا اس پہ بھی کچھ اس کی شکایت کا اثر اب مسیحا بھی جو بیمار سے کتراتا ہے ہو رہا ہے مجھے تکمیل محبت کا گماں عشق اب حسن کے دیدار سے کتراتا ہے دل ...

مزید پڑھیے

وقت اب سر پہ وہ آیا ہے کہ سر یاد نہیں

وقت اب سر پہ وہ آیا ہے کہ سر یاد نہیں تیرے دیوانوں کو بھی اب ترا در یاد نہیں ہائے وہ شب جو ترے وعدۂ شب میں گزری ہائے وہ شب ہے کہ جس شب کی سحر یاد نہیں زندگی کیسے کٹی داور محشر یہ نہ پوچھ وہ سفر یاد تو ہے رخت سفر یاد نہیں میرے اعمال پہ جائے تو یہ سمجھوں گا تجھے یاد ہے دامن تر دیدۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5803 سے 6203