قومی زبان

بجائے شبنم تازہ گلوں پہ خاک نہ ہو

بجائے شبنم تازہ گلوں پہ خاک نہ ہو بہار آئے مگر کوئی سینہ چاک نہ ہو ہزار غم سے گزرنے کے بعد بھی اے دل فسانہ اپنی محبت کا دردناک نہ ہو بھرم کھلے نہ محبت کا اے دل وحشی جنوں ہو جوش میں لیکن گریباں چاک نہ ہو فضول ہے یہ تسلی تماشا ہمدردی مدد کا جذبہ اگر وجہ اشتراک نہ ہو ہماری راہ میں ...

مزید پڑھیے

رہ گیا کیا سماج مٹھی بھر

رہ گیا کیا سماج مٹھی بھر لوگ کرتے ہیں راج مٹھی بھر لوٹ لے کوئی عزت و عصمت اور دے دے اناج مٹھی بھر سلطنت چار سمت پھیلی ہے اور سر پہ ہے تاج مٹھی بھر پھر پلٹ کے وہ دور آئے گا لوگ لیں گے خراج مٹھی بھر کل زمانہ ملائے گا آواز لوگ آئے ہیں آج مٹھی بھر فصل آئی ہے خوب کھیتوں میں نہیں گھر ...

مزید پڑھیے

پا کے طوفاں کا اشارا دریا

پا کے طوفاں کا اشارا دریا توڑ دیتا ہے کنارا دریا کیسے ڈوبے گی بھنور میں کشتی کیسے دے گا نہ سہارا دریا سیل ہمت ہیں ہمارے بازو ڈوب جائے گا تمہارا دریا بند افکار نے باندھے لیکن چڑھ کے اترا نہ ہمارا دریا اہل ہمت نے ڈبویا سب کو ناخداؤں سے نہ ہارا دریا اے اسیر غم ساحل ادھر آ بیچ ...

مزید پڑھیے

اے وطن اے وطن

اے وطن اے وطن اے ہمارے وطن پھول ہم ہیں ترے تو ہمارا چمن تیری عظمت پہ ہیں جان و دل سے خدا آسماں جھک کے پرچم ترا چومتا اے وطن اپنی جنت ہے کوچہ ترا خوشبو ہم اور تو نرگس و نسترن اے وطن اے وطن اے ہمارے وطن پھول ہم ہیں ترے تو ہمارا چمن ہم ہیں فصل بہار اور تو گلستاں تو اگر آسماں ہے تو ہم ...

مزید پڑھیے

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات شاہ معشوقاں کے آگے کیا ہے یہ ایتی بساط کیوں نہ دوڑے تب دوانا ہو کے مجنوں دشت کوں جب لکھی ہو عاشقاں کی شاخ آہو پہ برات جھلجھلاتی ہے مہیں جامے سیں تیرے تن کی جوت ماہ کا خرمن ہے اے خورشید رو تیرا یوگات سو گرہ تھی دل میں میرے خوشۂ انگور ...

مزید پڑھیے

عشق ہے عشق پاک بازی کا

عشق ہے عشق پاک بازی کا گو کہ ہو عالم مجازی کا عشق کا طفل گر زمیں اوپر کھیل سیکھا ہے خاک بازی کا دل کو مژگاں نیں لے کے پنجے میں کام کیتا ہے شاہبازی کا کیمیا سیم تن سیں ملتا ہے یہی ہے فن سیم سازی کا فضل احمد سیں شعر یکروؔ کا راہ ہے پردۂ حجازی کا

مزید پڑھیے

جب کریں مجھ ترے کا خیال انکھیاں

جب کریں مجھ ترے کا خیال انکھیاں اشک سیں تر کریں رومال انکھیاں چھوڑ خوباں کا دیکھنا اے دل لاگ جاویں گی آج کال انکھیاں آج تجھ پر نثار کرنے کوں اشک موتی ہوئے ہیں تھال انکھیاں دل پھڑکتا ہے بیجلی کی جوں ہوئی ہیں آج برشکال انکھیاں جب چلاوے صنم نگہ کی تیغ یکروؔ تب توں کر اپنی ڈھال ...

مزید پڑھیے

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا

اگر نہیں قصد اے ظالم مرے دل کے ستانے کا سبب کیا ہے تجھے مجھ سے نمانے سے بہانے کا ہوئی مدت نہیں طاقت مرے دل کوں جدائی کی کرم کر آ سجن یا فکر کر میرے بلانے کا شہ خوباں مرے گھر رات کو آیا ہے اے مطرب مرا دل شاد ہے گا راگ اے مطرب شہانے کا نہ ہووے کیوں کے گردوں پے صدا دل کی بلند ...

مزید پڑھیے

گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ

گل کو شرمندہ کر اے شوخ گلستان میں آ لب سیں غنچے کا جگر خوں کرو مسکیان میں آ وہی اک جلوہ نما جگ میں ہے دوجا کوئی نہیں دیکھ واجب کوں سدا مجمع امکان میں آ زندگی مجھ دل مردہ کی توہیں ہے مت جا دل سے گر خوش نہیں اے شوخ مری جان میں آ گل دل غنچہ نمن تنگ ہو رنگ و بو سیں جب کرے یاد ترے لب کے ...

مزید پڑھیے

سنایا یار نیں آ کر دو تارہ (ردیف .. ا)

سنایا یار نیں آ کر دو تارہ بلندی پے چڑھا میرا ستارہ مزیداری ہے ساری ہند کے بیچ نہ کر عزم سمرقند و بخارا رہا ہے عشق بازی بیچ وہ چست بتاں کن نقد دل کوں جن نیں ہارا رہے گا جان جیتا کیوں کے یکروؔ نگہ کا تیر تجھ انکھیاں نیں مارا

مزید پڑھیے
صفحہ 5805 سے 6203