قومی زبان

کیا کیجیئے رقم سند‌ احتشام زلف

کیا کیجیئے رقم سند‌ احتشام زلف ہے دفتر جمال پہ طغراے لام زلف خدمت ہو غازۂ گل رخ کی نسیم کو موج ہوا چمن میں کرے انتظام زلف فصل بہار آئی جنوں خیز دیکھیے سودائیوں کو آنے لگے پھر پیام زلف موذی جو سر چڑھا تو بنا مار آستیں سر پہ نہ چاہئے تھا بتوں کے مقام زلف سودائے زلف چین جبیں نے ...

مزید پڑھیے

پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں

پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں رحم اے بتو کہ ہم بھی تو بندے خدا کے ہیں گلچیں بہار گل میں نہ کر منع سیر باغ کیا ہم غبار دامن باد صبا کے ہیں یہ سادہ رو جو صاف نہیں رہتے شام وصل عاشق غبار دامن صبح خفا کے ہیں جس کو یقیں بقا کا ہو واعظ تری سنے ہم لوگ مست بادۂ جام فنا کے ہیں اے مہرؔ ...

مزید پڑھیے

پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک

پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک ہجوم پر ہیں پتنگے چراغ کے نزدیک ہمارے اشک مٹاتے ہیں داغ دل کی بہار یہ آب شور کی نہریں ہیں باغ کے نزدیک صفائی یار سے میلے میں ہو گئی اپنی ملال دور ہوا عیش باغ کے نزدیک وہ دل جلے ہیں کہ آئے مہرؔ ٹھنڈا کرنے کو ہوا نہ آ کے ہمارے چراغ کے نزدیک

مزید پڑھیے

نہ پہنچے چھوٹ کر کنج قفس سے ہم نشیمن تک

نہ پہنچے چھوٹ کر کنج قفس سے ہم نشیمن تک پر پرواز نے یاری نہ کی دیوار گلشن تک وہ بیدل ہوں کہ مجھ سے دوستی کرتا ہے دشمن تک وہ رہرو ہوں کہ مجھ کو راہ بتلاتا ہے رہزن تک پس مردن یہ اے مشاطۂ باد صبا کرنا ہماری خاک سرمہ بن کے پہنچے چشم روزن تک خزاں میں دیکھ لینا وادیٔ پر خار سے بد ...

مزید پڑھیے

مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے

مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے الجھے ہیں خار دامن باد بہار سے مطلب خزاں سے ہے نہ غرض ہے بہار سے ہم دل اٹھا چکے چمن روزگار سے یہ گل کھلا نہ لالہ رخوں کے فراق میں ہم داغ لے چلے چمن روزگار سے بسمل جو ہیں تو ہم ہیں تڑپتے جو ہیں تو ہم وہ خوش ہیں صید گاہ میں سیر شکار سے آغاز عشق ...

مزید پڑھیے

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے عروش صبح ابھی شب کی چادروں میں ہے نہ سوچ تاجوروں کا مآل کیا ہوگا یہ دیکھ تیشہ بکف کون پتھروں میں ہے بھڑک رہی ہیں کناروں کی بستیاں اب تک بلا کی آگ ہمارے سمندروں میں ہے نگار خانۂ معنی سے سرسری نہ گزر لہو کا رنگ بھی دو چار منظروں میں ہے سکوت ...

مزید پڑھیے

ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد

ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد عشق کا میرے اثر ان پہ ہوا میرے بعد اور کچھ دیر مرے غم کی کہانی سن لو ورنہ پھر کون کرے گا یہ گلہ میرے بعد دیکھ اس گل کو کسی غیر کا دینا نہ پیام میں کہے دیتا ہوں اے باد صبا میرے بعد کیوں نہ خوش ہوں کہ غم ہجر سے مر کر چھوٹا اب جو آئیں بھی تو پھر لطف ...

مزید پڑھیے

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں عاشقاں کب پسند کرتے ہیں جامہ زیباں دکھا کے قد اپنا دل عشاق بند کرتے ہیں نگہ گرم سیں سدا عاشق آتش دل بلند کرتے ہیں شوخ چشماں لے جانے کوں دل کے خم ابرو کمند کرتے ہیں جو کہ تجھ لعل لب کے طالب ہیں قند کوں کب پسند کرتے ہیں گر نہیں مسخرہ رقیب اس کوں لوگ کویں ...

مزید پڑھیے

گداز آتش غم سیں ہوئی ہیں باؤلی انکھیاں

گداز آتش غم سیں ہوئی ہیں باؤلی انکھیاں انجھو کے بھانت پانی ہو کے ماٹی میں رلی انکھیاں کریں گی قتل دل کوں آج تیغ ابرواں سیتی نپٹ خونیں ہیں ظالم ہم نیں تیری اٹکلی انکھیاں پئے دفع گزند ذو الفقار ابرو ترے مکھ پر مژہ کوں کر زباں کرتی ہیں دم ناد علی انکھیاں اگر دیکھیں بہار حسن کھل ...

مزید پڑھیے

شراب لعل لب دلبراں ہے مجھ کوں مباح

شراب لعل لب دلبراں ہے مجھ کوں مباح اب عیش و عشرت دونوں جہاں ہے مجھ کوں مباح یہی ہے فرق ہم اور تم منیں سن اے زاہد وہاں جو تجھ کو ملے گا یہاں ہے مجھ کوں مباح جنہوں کے تیر مژہ دل کوں پھوڑ چلتے ہیں وہ شوخ دلبر ابرو کماں ہے مجھ کوں مباح شراب و شاہد و خلوت سیاہ مستی ہوش اسی جہان منیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5802 سے 6203