تنہائی کی ایک نظم
بہت چھوٹی سی اک تقریب رکھی ہے یہ دنیا ہے لہٰذا حسب خواہش کچھ یہاں ہو کر نہیں دیتا سو یہ تقریب جانے ہو نہ ہو پر تم ضرور آنا تم آنا آرزو کی بات ہوگی زندگی پر تبصرے ہوں گے وہاں رکنا جہاں پھولوں کی سنگت میں روش پر دل دھرے ہوں گے قبائے چاک پہنے کچھ کشادہ ظرف استقبال کو باہر کھڑے ہوں ...