قومی زبان

وہ چشم مائل لطف و کرم ہوئی بھی تو کب

وہ چشم مائل لطف و کرم ہوئی بھی تو کب اجڑ چکا ہے دل اپنی خوشی ملی بھی تو کب اتر چکا ہے رگ جاں میں زہر تنہائی اسے بھی فرصت چارہ گری ملی بھی تو کب ہیں تا بحد نظر سلسلے سرابوں کے شدید تر ہوا احساس تشنگی بھی تو کب سموم غم کے اثر سے جھلس چکا ہے بدن دیار جاں میں ہواے طرب چلی بھی تو ...

مزید پڑھیے

سانسوں کو دے کے تحفۂ نکہت گزر گئی

سانسوں کو دے کے تحفۂ نکہت گزر گئی چھو کر مجھے ہوائے محبت گزر گئی آنکھوں میں اعتبار کا موسم بسا رہا مجھ کو فریب دے کے وہ صورت گزر گئی محسوس کر رہا ہوں اسے ہر نفس کے ساتھ وہ جس کے انتظار میں مدت گزر گئی آنکھوں میں ایک کرب سا لہرا کے رہ گیا نظروں سے جب بھی تیری شباہت گزر گئی وقت آ ...

مزید پڑھیے

پاس اس کے مرے غم کا مداوا بھی نہیں ہے

پاس اس کے مرے غم کا مداوا بھی نہیں ہے لیکن مجھے اس شخص سے شکوہ بھی نہیں ہے کیا علم تھا یہ دن بھی دکھائے گی محبت وہ ایسے ملا جیسے شناسا بھی نہیں ہے آنچل پہ ترے ٹانک تو دیتا دم رخصت پلکوں پہ مری کوئی ستارہ بھی نہیں ہے حیران ہوں میں آج سر جادۂ اخلاص تا دور کوئی نقش کف پا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

خوشی نہ مل سکی آنکھیں مری پر آب رہیں

خوشی نہ مل سکی آنکھیں مری پر آب رہیں خیال و خواب کی باتیں خیال و خواب رہیں سحر ہوئی نہ مرے شہر آرزو میں کبھی کہ مہر حسن کی کرنیں پس نقاب رہیں انہی کے دم سے ہے قائم وقار سجدۂ شکر وہ لوگ جن کی سدا قسمتیں خراب رہیں کسی نے بھی در احساس اپنا وا نہ کیا دکھے دلوں کی صدائیں نہ کامیاب ...

مزید پڑھیے

لب پہ مرے فریاد نہیں ہے اے غم دنیا اے غم جاناں

لب پہ مرے فریاد نہیں ہے اے غم دنیا اے غم جاناں مجھ کو کچھ بھی یاد نہیں ہے اے غم دنیا اے غم جاناں قلب شکستہ پر جو نہ گزری مجھ آشفتہ پر جو نہ بیتی ایسی کوئی افتاد نہیں ہے اے غم دنیا اے غم جاناں تھا جو ارمانوں کا ڈیرا آرزوؤں کا حسیں بسیرا اب وہ مکاں آباد نہیں ہے اے غم دنیا اے غم ...

مزید پڑھیے

فکر کا گر سلسلہ موجود ہے

فکر کا گر سلسلہ موجود ہے فاش ہے وہ بھی جو ناموجود ہے اس سے مجھ سے فاصلہ کچھ بھی نہیں ایک دیوار انا موجود ہے سوچتا ہوں کچھ عمل کرتا ہوں کچھ مجھ میں کوئی دوسرا موجود ہے سنتا رہتا ہوں ترے قدموں کی چاپ ورنہ دل میں اور کیا موجود ہے ہجر میں روئے تو جی ہلکا ہوا درد کے اندر دوا موجود ...

مزید پڑھیے

اداسی

ابھی جنگ جاری ہے جلنے لگیں بستیاں اٹھ رہا ہے دھواں ایک خوں ریز دریا درختوں کو سیراب کرتا ہے جنگل مئے ناب سے کتنا مسرور ہے جنگل جاری کہاں ہے وہ دیکھو پہاڑوں کے دروں میں بھگدڑ مچی ہے بکھرتی ہوئی فوج کے سورما پیٹھ پر زخم کھانے کے شیدا انہیں کی ہے میراث ساری اداسی جو بستی کے کھیتوں ...

مزید پڑھیے

نمائش

رات میں بھی گیا اک نمائش تھی عمدہ تصاویر کی شہر کے چیدہ چیدہ معزز خواتین و حضرات چہروں پہ موزوں ملاوٹ نفاست کی سنجیدگی کی فنون لطیفہ کے ادراک کی اپنی موجودگی سے یقیں دوسروں کو دلاتے ہوئے کتنے با ذوق ہیں کاش خود بھی یقیں کر سکیں رات اچھی نمائش تھی میں بھی نمائش میں تصویر تھا

مزید پڑھیے

وقت کے ساتھ زندگی کا دکھ

وقت کے ساتھ زندگی کا دکھ مرے سر پر ہے ہر خوشی کا دکھ اپنے زخموں کو بھول جاتا ہوں دیکھ لیتا ہوں جب کسی کا دکھ لیلائے ہر سخن پریشاں ہے جب قلم میں ہے بے کسی کا دکھ ہم سفر اب نہیں کوئی میرا میرا ساتھی ہے ہمرہی کا دکھ آج معراج ہو گئی میری آج بانٹا ہے بندگی کا دکھ زندگی ساری بندگی ...

مزید پڑھیے

شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے

شدت بہار کی بھی گوارا نہیں مجھے پھولوں کے توڑنے کا بھی یارا نہیں مجھے موجوں سے کھیلتا ہوں ارادوں کا دور ہے موجوں میں آرزوئے کنارہ نہیں مجھے میں گر پڑا تھا راہ میں چلتے ہوئے مگر پھر بھی تو دوستوں نے پکارا نہیں مجھے کس دن چبھی نہیں ہیں مصائب کی کرچیاں کس دن تمہارے غم نے سنوارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5757 سے 6203