قومی زبان

الٰہی کیا کبھی پورے یہ ارماں ہو بھی سکتے ہیں

الٰہی کیا کبھی پورے یہ ارماں ہو بھی سکتے ہیں مرے کاشانۂ دل میں وہ مہماں ہو بھی سکتے ہیں کوئی صیاد سے پوچھے کہ او نا واقف الفت یہ دیوانے کہیں پابند زنداں ہو بھی سکتے ہیں بتا اے خضر راہ عشق میں منزل ہے ایسی بھی کہیں ہم واقف اسرار جاناں ہو بھی سکتے ہیں زبان شوق پر چھا جائے گا ...

مزید پڑھیے

حسن ہے مہرباں تعجب ہے

حسن ہے مہرباں تعجب ہے پھر بھی ہم بد گماں تعجب ہے آمد آمد تھی موسم گل کی جل گیا آشیاں تعجب ہے جو بھٹکتے تھے پہنچے منزل پر کھو گئے کارواں تعجب ہے گرم تھی کل تو عیش کی محفل آج ماتم وہاں تعجب ہے پھول جھڑتے تھے ہر گھڑی جن سے ان لبوں پر فغاں تعجب ہے توبہ کی تھی شراب خانے سے آ گئے ...

مزید پڑھیے

زمانے کی یہ حالت انقلابی ہم نے دیکھی ہے

زمانے کی یہ حالت انقلابی ہم نے دیکھی ہے غریبی ہم نے دیکھی ہے نوابی ہم نے دیکھی ہے اڑاتے پھر رہے ہیں خاک ویراں ریگزاروں کی مہ و انجم کی صدیوں ہم رکاگی ہم نے دیکھی ہے چھلکتے جام جن ہاتھوں میں ہر دم رقص کرتے تھے انہیں ہاتھوں میں اب خالی گلابی ہم نے دیکھی ہے ہم اپنے گاؤں میں جس کا ...

مزید پڑھیے

بدلی بدلی سی گلستاں کی ہوا آج بھی ہے

بدلی بدلی سی گلستاں کی ہوا آج بھی ہے دست صرصر میں گل تر کی قبا آج بھی ہے آج بھی خون شہیداں سے ہے تزئین جمال دست قاتل کو تمنائے حنا آج بھی ہے کارگر ہو نہ سکا زخم کے مرہم کا علاج میرے سینے میں ہر اک زخم ہرا آج بھی ہے آنسوؤں میں بڑی لذت تھی بہت پہلے بھی اک طرف بیٹھ کے رونے میں مزہ ...

مزید پڑھیے

اپنے ارباب زر نہیں بدلے

اپنے ارباب زر نہیں بدلے ہیں بڑے کم نظر نہیں بدلے چھوڑ دی شاخ گل ہوئی مدت طور برق و شرر نہیں بدلے گردشوں نے جہان کو بدلا شیخ والا گہر نہیں بدلے انقلاب آ کے ہو گئے رخصت اپنے شام و سحر نہیں بدلے ہم کو دنیا کچل کے رکھ دے گی ہم نے رہبر اگر نہیں بدلے گھولا جاتا ہے زہر امرت ...

مزید پڑھیے

کل رات دل میں یادوں کا میلہ لگا رہا

کل رات دل میں یادوں کا میلہ لگا رہا ماضی کو چشم حال سے میں دیکھتا رہا تیرے بغیر جی تو نہ سکتے تھے ہم مگر غم تیرا زندگی کا سہارا بنا رہا منہ میں زباں نہ رکھتے تھے تیری گلی کے لوگ میں پتھروں سے تیرا پتا پوچھتا رہا زندان احتیاط میں گزری تمام عمر میں جرم آگہی کی سزا کاٹتا رہا شل ہو ...

مزید پڑھیے

ڈوب جانا مرا مقدر تھا

ڈوب جانا مرا مقدر تھا اس کی آنکھیں نہ تھیں سمندر تھا سبب دل شکستگی مت پوچھ سامنے آئنے کے پتھر تھا بے توازن گزر رہی ہے حیات وہ مری زندگی کا محور تھا جس کی سانسوں میں تھی مسیحائی اس کا ایک ایک لفظ نشتر تھا اس کو دیکھا تو مر گیا شاید مجھ میں پوشیدہ ایک آذر تھا جس کو عابدؔ سکون دل ...

مزید پڑھیے

دھوکا ہے اس کا جانب اغیار دیکھنا

دھوکا ہے اس کا جانب اغیار دیکھنا جب ہم نہ ہوں تو رنگ رخ یار دیکھنا تجھ سے بچھڑنا یوں بھی قیامت سے کم نہ تھا اس پر ترا پلٹ کے وہ اک بار دیکھنا اپنے غموں کا بوجھ اٹھا اپنے دوش پر توہین غم ہے جانب غم خوار دیکھنا وہ شکل ایک خواب تھی اور خواب خواب ہے کب تک یہ خواب دیدۂ بے دار ...

مزید پڑھیے

کس سے اب جا کے کہیں حال پریشاں اپنا

کس سے اب جا کے کہیں حال پریشاں اپنا لیے پھرتے ہیں سبھی چاک گریباں اپنا جز ترے نام کے ابھری نہ کوئی اور صدا ہم نے چھیڑا جو کبھی تار رگ جاں اپنا پھر اسے مجھ سا کوئی چاہنے والا نہ ملا وہ پشیماں ہے بہت توڑ کے پیماں اپنا میرے ہونٹوں کے تبسم سے ہراساں ہو کر رخ بدل لیتا ہے سیل غم دوراں ...

مزید پڑھیے

بشر بشر سے گریزاں ہے دیکھیے کیا ہو

بشر بشر سے گریزاں ہے دیکھیے کیا ہو اک انقلاب نمایاں ہے دیکھیے کیا ہو فقط جنوں ہی نہیں اب کے موسم گل میں خرد بھی چاک گریباں دیکھیے کیا ہو رہ حیات کی دشواریاں ارے توبہ ثبات عزم بھی لرزاں ہے دیکھیے کیا ہو بدل تو سکتی ہے نیرنگیٔ فریب سحر یقیں نہیں مگر امکاں ہے دیکھیے کیا ہو جسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5756 سے 6203