قومی زبان

اپنے اندر بھی ہم نوائی نہیں

اپنے اندر بھی ہم نوائی نہیں عقل کی روح تک رسائی نہیں سودا بازی اگر نہ ہو اس میں نیکی کرنے میں کچھ برائی نہیں ہر ادا سے ادا نکلتی ہے اتنی آسان آشنائی نہیں ہم سے قائم ہے تیرے حسن کی شان یہ مری جان! خود ستائی نہیں کتنا تنہا ہوں دشت غربت میں میرا بھائی بھی میرا بھائی نہیں کسی ...

مزید پڑھیے

پھٹا ہوا جو گریباں دکھائی دیتا ہے

پھٹا ہوا جو گریباں دکھائی دیتا ہے کسی کا درد نمایاں دکھائی دیتا ہے نکلنا چاہتا ہوں جسم کے حصار سے میں کہ اپنا تن مجھے زنداں دکھائی دیتا ہے سرائے دہر میں ٹھہرا ہوا مسافر ہوں عجیب بے سر و ساماں دکھائی دیتا ہے ترے لبوں کے تبسم کو کس سے دوں تشبیہ کہ غنچہ بھی تو پریشاں دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

تیری دنیا کی کج ادائی سے

تیری دنیا کی کج ادائی سے لڑ رہا ہوں بھری خدائی سے حسن ہے آپ اپنی آرائش حسن گھٹتا ہے خود نمائی سے ہم نے قدموں کو دور رکھا ہے ہر بدی سے ہر اک برائی سے دل ہی ٹوٹا ہے کچھ نہیں بگڑا آپ کی طرز بے وفائی سے بد گمانی کا دور ہے عابدؔ بھائی ہے بد گمان بھائی سے

مزید پڑھیے

جانے کس سمت کو بھٹکا سایہ

جانے کس سمت کو بھٹکا سایہ دھوپ کہنے لگی سایہ! سایہ! کوئی سرنامہ ہمارا لکھے رخش پر ہم تو پیادہ سایہ سر بے مغز کے اوہام تو دیکھ جسم اپنا ہے پرایا سایہ یہ عداوت ہے حقارت تو نہیں ان کی دستار سے روٹھا سایہ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوا چھن گیا ہم سے ہمارا سایہ اب تو اعجاز ہے جینا ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میں ماہتاب ہو جیسے

ہاتھ میں ماہتاب ہو جیسے کھلی آنکھوں میں خواب ہو جیسے میرے ہمسائے میں جو رہتا ہے مجھ سا خانہ خراب ہو جیسے چاند نکلا تو اس قرینے سے اک حسیں بے حجاب ہو جیسے ہم سفر ڈھونڈنے کو نکلا ہوں موسم انتخاب ہو جیسے یوں گناہوں کی یاد آتی ہے آج یوم حساب ہو جیسے آنکھ مدت سے تر نہیں عابدؔ خشک ...

مزید پڑھیے

چراغ بجھ بھی چکا روشنی نہیں جاتی

چراغ بجھ بھی چکا روشنی نہیں جاتی وہ ساتھ ساتھ ہے اور بیکلی نہیں جاتی شباب رفتہ پھر آتا نہیں جوانی پر یہ وہ مکاں ہے کہ جس کو گلی نہیں جاتی عجیب در بدری میں گزر رہی ہے حیات کہ اپنے گھر میں بھی اب بے گھری نہیں جاتی چمن کو چاروں طرف گھیر کر نہیں رکھنا صبا گلوں کی طرف کب چھپی نہیں ...

مزید پڑھیے

زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے

زخم کے رنگ ہیں کیا میری ردا جانتی ہے کس نے کی کس سے وفا خود یہ وفا جانتی ہے اب قفس اور گلستاں میں کوئی فرق نہیں ہم کو خوشبو کی طلب ہے یہ صبا جانتی ہے خود پرستی کے محلات میں رہنے والو زلزلہ آنے کو ہے لرزش پا جانتی ہے میں نہیں جانتا دریوزہ گری کو لیکن میرے لب پر ہے دعا کیا یہ دعا ...

مزید پڑھیے

کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ

کف خزاں پہ کھلا میں اس اعتبار کے ساتھ کہ ہر نمو کا تعلق نہیں بہار کے ساتھ وہ ایک خموش پرندہ شجر کے ساتھ رہا چہکنے والے گئے باد سازگار کے ساتھ کھلے دروں سے طلب گار خواب گاہیں مگر میں جاگتا رہا اک خواب ہمکنار کے ساتھ کلی کھلی ہے سر شاخ اور یہ کہتی ہے کہ کوئی دیکھے تمنائے خوش گوار ...

مزید پڑھیے

کہیں سے باس نئے موسموں کی لاتی ہوئی

کہیں سے باس نئے موسموں کی لاتی ہوئی ہوائے تازہ در نیم وا سے آتی ہوئی بطور خاص کہاں اس نگر صبا کا ورود کبھی کبھی یوں ہی رکتی ہے آتی جاتی ہوئی میں اپنے دھیان میں گم صم اور ایک ساعت شوخ گزر گئی مری حالت پہ مسکراتی ہوئی سراب خواہش آسودگی مگر کوئی شے ملی نہیں ہے طبیعت سے میل کھاتی ...

مزید پڑھیے

زخم دل اپنا کبھی اس کو دکھا بھی دینا

زخم دل اپنا کبھی اس کو دکھا بھی دینا اس کی سن لینا کبھی اس کو سنا بھی دینا آنسوؤں اور شرابوں کی کہانی کب تک مری غزلوں کو کوئی رنگ نیا بھی دینا میں ہوں منزل کا طلب گار مگر راہنما مجھ کو دو چار قدم راہ وفا بھی دینا ترے احسان نہ ہرگز میں کبھی بھولوں گا بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5758 سے 6203