بے نام
دریچے باز تھے ٹھنڈی ہوا کی نرم دستک سے نوائے نیم شب آنکھیں ٹھٹھک کر کھل گئیں مہتاب کے خاموش جادو سے سمندر بھی ہمکتا تھا مجھے وہ نام کیا دینا جھلک خود اسم گر کی جس میں آتی ہو مجھے کیوں قید کرتے ہو میں مٹھی میں سما جاؤں طلسمی طاقتیں بے آسرا بندوں کو دہلائیں کہیں دیوار پر ...